انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 320

العلوم جلد نجات کی حقیقت خداوند خدا نے سانپ سے کہا۔اس واسطے کہ تو نے یہ کیا ہے۔تو سب مویشیوں اور میدان کے سب جانوروں سے ملعون ہوا تو اپنے پیٹ کے بل چلے گا۔اور عمر بھر خاک کھائے گا اور میں تیرے اور عورت کے اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان دشمنی ڈالوں گا۔وہ تیرے سر کو کچلے گی اور تو اس کی ایڑی کو کاٹے گا۔اس نے عورت سے کہا کہ میں تیرے حمل میں تیرے درد کو بہت بڑھاؤں گا اور درد سے تو لڑکے جنے گی اور اپنے خصم کی طرف تیرا شوق ہو گا اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا اور آدم سے کہا اس واسطے کہ تو نے اپنی جو رو کی بات سنی اور اس درخت سے کھایا جس کی بابت میں نے تجھے حکم کیا کہ اس سے مت کھانا زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی اور تکلیف کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس سے کھائے گا اور وہ تیرے لئے کانٹے اور اونٹ کٹارے اگائے گی اور تو کھیت کی بات کھائے گا تو اپنے منہ کے پسینے کی روٹی کھائے گا"۔(پیدائش باب ۳ آیت ۱۴ تا ۱۹ مطبوعه ۱۹۲۲ شه اب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر یہ سزائیں کفارہ پر ایمان لانے سے مٹ جاتی ہیں۔تب تو کفارہ ٹھیک ہے ورنہ اس بات کے ثبوت کے لئے کہ ورثہ کا گناہ کفارہ کے ماننے سے معاف ہو جاتا ہے کوئی بھی نہیں ہے۔اس گناہ کی وجہ سے سانپ کو یہ سزا دی گئی تھی کہ " تو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور عمر بھر خاک کھائے گا اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان دشمنی ڈالوں گا وہ تیرے سر کو کچلے گی اور تو اس کی ایڑی کو کاٹے گا"۔( چونکہ سانپ کے لئے عیسائی صاحبان کفارہ کا مانا کسی طرح نہیں بتا سکتے۔اس لئے اس کی سزا تو کبھی دور ہو ہی نہیں سکتی۔باقی رہا مرد اور عورت عورت کو یہ سزا ملی تھی کہ ” میں تیرے حمل میں درد کو بہت بڑھاؤں گا اور درد سے تو لڑکے بنے گی اور اپنے خصم کی طرف تیرا شوق ہو گا اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا"۔اگر کفارہ پر ایمان لاتے ہی عورت کی یہ تمام سزائیں معاف ہو جاتیں۔تو ہم سمجھتے کہ یہ عقیدہ درست ہے لیکن اس وقت تک کوئی عیسائی عورت ان تکلیفوں سے بچ نہیں سکتی۔اس لئے کس طرح مان لیا جائے کہ کفارہ ٹھیک ہے اسی طرح مرد کو جو سزا ملی ہے وہ بھی کسی مرد کے کفارہ کو مان لینے سے دور نہیں ہو سکتی پس جب کفارہ کے ذریعہ اس جہان کی سزائیں معاف نہیں ہو سکتیں تو دوسرے جہاں کی کہاں ہو سکیں گی۔مسیحیت کے نزدیک نجات پانے کی ینی علامتیں ہیں۔مگر یہ کسی عیسائی کے عمل سے پوری نہیں ہوتیں۔اس لئے کفارہ باطل و گیا اور جب کفارہ باطل ہوا تو اس کا نتیجہ یعنی نجات بھی باطل ہو گئی۔