انوارالعلوم (جلد 3) — Page 312
اور ان کے لئے بھی سامان ہیں۔۳۱۲ نجات کی روح میں یہ کشش ہے کہ وہ نہ اسلام نہ صرف نجات دلاتا ہے بلکہ مفلح بناتا ہے صرف دکھ سے بچے بلکہ آرام بھی حاصل کرے۔لیکن جو مذہب اسے صرف دکھ سے بچاتا ہے وہ اس کے آدھے حصہ کو پورا کرتا ہے۔کیونکہ اس کے دو مطالبے ہیں ایک دکھ سے بچنا۔اور دوسرا آرام حاصل کرنا۔عیسائیت صرف نجات یعنی دکھ سے بچانے کا وعدہ کرتی ہے۔اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص دشمن کے مقابلہ کے لئے جائے تو اسے کہا جائے کہ کوئی فکر نہ کرو تم اس کے ضرر سے بچ جاؤ گے لیکن اصل میں یہ اس کے لئے اتنی خوشی کی بات نہیں ہوگی جتنی یہ ہو سکتی ہے کہ تم نہ صرف دشمن کے ضرر سے بچ جاؤ گے بلکہ اس پر کامیابی بھی حاصل کر لو گے۔کیونکہ صرف دکھ سے بچنا کوئی ایسی بات نہیں ہے جو انسان کے لئے کامل خوشی کا موجب ہو سکے۔اسلام نے یہی آخری درجہ یعنی دکھوں اور تکلیفوں سے بیچ کر کامیاب اور بامراد ہونے کا رکھا ہے۔اور اس کا نام فلاح قرار دیا ہے یعنی مظفر و منصور اور غالب ہو کر اپنی راحت و آرام کے سامان مہیا کرلینا۔پس اسلام نہ صرف یہ بتاتا ہے کہ تم دکھوں سے بچو بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تم اس طرح آرام حاصل کر سکتے ہو۔یہ اسلام اور مسیحیت میں پہلا اور سب سے بڑا فرق ہے۔عیسائیت کے لیکچرار اپنے سارے زور اور قوت سے لوگوں کو نجات کی طرف بلاتے ہیں۔لیکن قرآن کریم ابتداء میں ہی فرماتا ہے۔اولَيْكَ عَلى هُدًى مِنْ رَتِهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ: اسلام کے احکام پر چلنے والے ہدایت اور ہر قسم کے روحانی مدارج کے حاصل کرنے والے ہوں گے۔اور اس کے علاوہ وہی اپنے مقصد اور مدعا میں کامیاب اور بامراد ہو جائیں گے۔یہ درجہ دکھ درد سے مخلصی حاصل کرنے سے بہت اعلیٰ ہے۔اس میں شک نہیں کہ مسیحی مذہب میں بھی آرام حاصل کرنے کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے مگر اس پر زور نہیں دیا جاتا۔اسکو ایک ضمنی بات سمجھا جاتا ہے۔اور اصل مقصد نجات کو قرار دیا جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کے مرتب کرنے والوں کی نظر وسیع نہ تھی۔یا بعد میں لوگوں نے اس میں تغیر و تبدل کر دیا۔یہ تو ایک بڑا فرق ہوا۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ عیسائیت کی نجات کے مقابلہ عیسائیت اور اسلام میں پہلا فرق میں اسلام میں نجات بھی ہے مگر یہ فلاح سے ادنیٰ يت ه البقره : ۶