انوارالعلوم (جلد 3) — Page 3
چند غلط فہمیوں کا ازالہ بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم " چند غلط فہمیوں کا ازالہ جب انسان جلد بازی سے کام لیتا ہے اور بغیر کافی غور کرنے کے ایک بات پر بحث کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ٹھو کر کھاتا ہے اور بجائے راستی کو پانے کے دروغ پر ہاتھ مارتا ہے اور اپنے ساتھ اور بہت سے بے خبروں کو بھی باطل کے عمیق گڑھے میں گرا دیتا ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب کے رسالہ اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب پر جو میں نے رسالہ "القول الفصل " لکھا تھا اس کے ایک حصہ کے جواب دینے کی مولوی محمد علی صاحب نے کوشش کی ہے اور مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے بہت سی غلط فہمیوں میں پڑ کر بہت سے اور لوگوں کو بھی حق کے سمجھنے سے روکا ہے اور جلد بازی سے کام لے کر میرے مضمون پر کافی غور کئے بغیر ہی اس کا جواب لکھنے کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔جب آپ کا رسالہ میرے پاس پہنچا اور میں نے اسے پڑھا تو اس کے پڑھتے ہی میں نے معلوم کر لیا کہ بجائے اس کے کہ جناب مولوی صاحب رسالہ "القول الفصل" کو پڑھ کر ان غلطیوں سے متنبہ ہوتے جن میں آپ گر فتار تھے آپ نے اس کے جواب لکھنے کی فکر میں اس رسالہ کی عبارت پر بھی غور نہیں کیا اور چند اور غلط فہمیوں کا شکار ہو گئے اور القول الفصل کی کسی غلطی کا ازالہ تو کیا کرنا تھا اپنی سمجھ کی بعض غلطیوں کو دور کرنے لگ گئے اور گو بعض وہ اشخاص جنہوں نے رسالہ القول الفصل نہ پڑھا ہو دھوکا کھا جائیں کہ جناب مولوی صاحب نے واقع میں القول الفصل کی کوئی سخت غلطی معلوم کرلی ہے لیکن جو لوگ القول الفصل کے مضمون سے آگاہ ہیں وہ اس رسالہ کو دیکھتے ہی معلوم کر لیں گے کہ مولوی صاحب موصوف نے بجائے القول الفصل کی کسی غلطی کا ازالہ کرنے کے خود ایک غلطی ایجاد کی ہے اور پھر اس کا جواب دینا شروع کر دیا