انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 265

انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۶۵ اسلام اور دیگر مذاہب ان سے سختی سے کلام نہ کرو بلکہ جب ان سے بات کرو تو ادب و احترام کو مد نظر رکھو اور ان کے آرام و آسائش کے لئے کمال رحم کے ساتھ اپنی خدمت کے بازو ان کے سامنے بچھا دو اور باوجود اس سلوک کے یہی سمجھو کہ تم نے ان کی خدمت کا حق پورے طور پر ادا نہیں کیا اس لئے خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے رہو کہ الہی! میں تو ان کے احسانات کا بدلہ بھی نہیں دے سکتا پس تو ہی ہماری طرف سے ان کا متکفل ہو جا اور جس طرح انہوں نے اس وقت کہ ہم بے بس و بے کس تھے ہماری مدد کی تو بھی اس دن کہ یہ بے بس و بے کس ہوں اسی محبت اور پیار کے ساتھ ان سے معاملہ کیجیو۔یہ وہ بے نظیر تعلیم ہے جو اسلام والدین کے حق میں دیتا ہے اور دنیا کا کونسا مذہب ہے جو اس کے مقابلہ میں اپنی تعلیم کو پیش کر سکے اس میں کوئی شک نہیں کہ سب مذاہب اپنے اندر خوبیاں رکھتے ہیں اور چونکہ وہ خدائے تعالی کے بھیجے ہوئے ہیں اس لئے ان کے اندر بہت ہی صداقتیں موجود ہیں۔لیکن والدین کے متعلق وہ افراط و تفریط سے خالی اور کامل تعلیم جو اسلام پیش کرتا ہے اور کسی مذہب میں نہیں پائی جاتی۔کس طرح ایک ہی آیت میں اول تو یہ بتایا ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالٰی کی ہوتی ہے اور والدین کے احسان بھی اس کے مقابلہ میں بیچ ہوتے ہیں پس تم ہر گز اس مذہب کی پیروی نہ کرو جو والدین کے حقوق کی ادائیگی میں اس قدر افراط سے کام لیتا ہے کہ ان کے آگے سجدہ کرنا اور عبادت کی شرائط بجا لانے کو جائز قرار دیتا ہے کیونکہ یہ کام حد سے بڑھا ہوا ہے اور والدین کی تکریم کرتے ہوئے اس میں اس حقیقی محسن کی بہتک کی گئی ہے کہ جو اس احسان کا بھی خالق ہے جو والدین انسان پر کرتے ہیں۔دوسری بات اس آیت میں یہ بتائی ہے کہ والدین کی عبادت تو نہیں کرنی لیکن ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا ہے یہ وہ تعلیم ہے کہ جس کے مقابلہ میں اور کوئی مذہب کھڑا نہیں ہو سکتا کیونکہ دیگر مذاہب صرف یہ کہتے ہیں کہ تو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کر اور ان کی خدمت کر لیکن اسلام صرف یہی نہیں کہتا تو ان سے نیک سلوک کر بلکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ تو ان سے احسان کرنے کی کوشش کر اور احسان اس خدمت یا اس انعام کو کہتے ہیں جو دو سرے کی خدمت یا انعام سے زائد ہو۔ایک مزدور اگر کسی شخص کی مزدوری کرتا ہے اور وہ دو سرے وقت میں اسے اس کا حق ادا کر دیتا ہے تو وہ ہر گز اس کا محسن نہیں کہلا تا محسن وہ کہلاتا ہے جو اس کے حق سے زیادہ بدلہ اس کو دے۔پس اسلام نے والدین کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ تو ان سے نیک سلوک کر کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنے