انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 259

انوار العلوم جلد ۳۰ ۲۵۹ اسلام اور دیگر مذاہب استعمال کرنے سے قرآن کریم نے اس طرف بھی اشارہ کر دیا ہے کہ اسلام دین یا عزت یا تمدن کی حفاظت کے لئے انسان کو اپنی جان خطرہ میں ڈال دینے سے نہیں روکتا بلکہ ایسے کاموں سے روکتا ہے جن کا کوئی نیک نتیجہ برآمد ہونے کی امید نہ ہو اور جن میں انسان کی جان یا کسی اور مفید شے کے بلاوجہ برباد ہونے کا خطرہ ہو۔یہ تو ایک عام حکم ہے جس میں اصولاً انسان کو بتایا گیا ہے کہ اسے اپنے نفس سے کیسا معاملہ کرنا چاہئے لیکن اس کے علاوہ قرآن کریم و احادیث میں اس کے متعلق بہت سی تفاصیل بھی پائی جاتی ہیں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ انسان کے کھانے اور پینے کے متعلق فرماتا ہے يَسْتَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ، قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ - ( المائدة : (۵) یعنی لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کو کون کونسی اشیاء کھانے کی اجازت ہے تو اس کے جواب میں کہہ دے کہ ہر ایک چیز جو تمہارے جسم یا تمہاری عقل یا تمہارے اخلاق یا تمہارے دین کے لئے مضر نہیں وہ تمہارے لئے حلال ہے بے شک اس کا استعمال کرو۔اسی طرح ایک دوسری جگہ فرماتا ہے کہ آبَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَتِ مَا اَحَلَّ الله لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - (المائدة : (۸۸) یعنی اے مومنو! جو پاک اشیاء (جو کسی طرح بھی تمہارے لئے مضر نہیں) طلال کی گئی ہیں ان کو اپنے نفس پر کبھی حرام نہ کرد یعنی کبھی اپنے نفس سے عہد نہ کرو کہ فلاں چیز جو صحت بدن و سلامتی عقل و درستی اخلاق و حفاظت دین میں سے کسی شئے کے لئے بھی مضر نہیں صرف نفس کشی کے لئے ہم اپنے نفس پر حرام کرتے ہیں۔اور اس کے علاوہ یہ بات بھی یاد رکھو کہ اگر ایک طرف تم کو ان چیزوں کو اپنے نفس پر حرام کرنے کی اجازت نہیں تو دوسری طرف اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ تم اپنے نفس کو بس کھانے پینے ہی میں لگا دو اور دیگر فرائض کو بھول جاؤ۔اگر ایسا کرو گے تو یہ فعل تمہارا حد سے نکلا ہوا ہو گا اور اللہ تعالیٰ حد سے بڑھ جانے اور ایک طرف ہی جھک جانے کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔اس آیت پر غور کرو کہ کھانے پینے کے متعلق کس طرح ایک طرف تو بلا وجہ اپنے نفس کو طیب اور پاک اشیاء سے محروم رکھنے سے منع کیا ہے اور دوسری طرف بالکل جسم کی پرورش میں ہی مشغول ہو جانے سے روکا ہے۔کیا یہی وہ تعلیم نہیں کہ جو ہر ایک طبیعت اور ہر ایک ملک اور ہر ایک زمانہ اور ہر ایک ضعیف یا قومی انسان کے مناسب حال ہے پھر کیا اسلام کے سوا کوئی اور بھی مذہب ہے جس نے اس رنگ میں انسان کی ہدایت کی ہو۔اگر نہیں تو کیا تو اس امر سے یہ بات پوری طرح ثابت نہیں ہو جاتی کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو اس وقت