انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 257

۲۵۷ اسلام اور دیگر نداہب اس تفریط کے مقابلہ میں بعض مذاہب نے افراط سے کام لیا ہے اور انہوں نے جسمانی ریاضتوں کو سرے سے ہی مضر اور لغو قرار دیا ہے اور صاف کہہ دیا ہے کہ جسم کو کسی ریاضت میں ڈالنا بالکل لغو اور فضول ہے اور اس میں سوائے نقصان کے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ خدائے تعالی کو کسی انسان کو تکلیف دینے یا اسے بھوکا پیاسا رکھنے سے کیا سروکار ہے اور اس عذر کے ماتحت انہوں نے تمام عبادات کو ترک کر دیا ہے۔لیکن جس طرح ان مذاہب نے جنہوں نے نفس کو بلاوجہ دکھ میں ڈالنے اور تمام لذائذ و نعماء سے بچنے کی ترغیب دی ہے نفس کے حق میں تفریط سے کام لیا ہے اسی طرح اس جماعت نے اس کے حق کی ادائیگی میں افراط سے کام لیا ہے۔کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ طرح طرح کی دنیاوی لذتوں کے حصول میں مشغول رہتے ہیں اور ہر وقت اپنے جسم کی تربیت میں مشغول رہتے ہیں ان کا جسم اسقدر آرام طلب ہو جاتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں روح بھی مست ہو جاتی ہے اور ایسے لوگوں کا رفتہ رفتہ قلب بھی سیاہ ہو جاتا ہے کیونکہ جسم انسان کی روح کے ساتھ وہی تعلق رکھتا ہے جو کہ ایک میوہ کا قشر اس کے مغز سے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قشر خود مطلوب نہیں لیکن قشر کو جب مغز سے جدا کر دو گے تو وہ فور آیا کچھ دیر کے بعد بالکل برباد ہو جائے گا اسی طرح اگر عبادات میں جسم کو بھی شامل نہ کیا جائے تو ایسی عبادات جلد فنا ہو جاتی ہیں اور ایسے لوگ جو عبادت کا تعلق صرف قلب کے متعلق سمجھ کر یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف دل کی عبادت کافی ہے کچھ دنوں کے بعد ولی عبادت سے بھی محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ تھوڑے ہی عرصہ میں ان کی روح کی تازگی جاتی رہتی ہے اور سستی اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اس طرح مرجھائی جاتی ہے جس طرح قشر سے الگ کیا ہوا مغز۔اور اس بات کو اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے تب بھی اس بات میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ جس طرح انسان کی روح خدائے تعالیٰ کے احسان کے نیچے ہے اسی طرح اس کا جسم بھی ہے۔پس روح اور جسم دونوں کو عبادت میں لگانا ہی انسان کو اس شکر گزاری کے فرض سے سبکدوش کر سکتا ہے جس کا بجالانا اس کے لئے نہایت ضروری ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کا جسم مثل ایک سواری کے گھوڑے کے ہے جس پر سوار ہو کر انسان اس زندگی کے سفر کو طے کرتا ہے اور اس کو جب تک ایسی حالت میں نہ رکھا جائے جس سے ایک تو یہ چست و چالاک ہو جائے اور دو سری طرف ایسے دبلا پن سے محفوظ رہے کہ جس کا نتیجہ ہلاکت ہو تب تک کبھی انسان اپنے سفر زندگی کو عمدگی سے طے نہیں کر سکتا۔کیا نہیں دیکھتے