انوارالعلوم (جلد 3) — Page 248
۲۴۸ اسلام اور دیگر مذاہب متعلق یہ عقیدہ پیش کرتا ہے کہ وہ کبھی کوئی گناہ نہیں بخشا اور نہ بخش سکتا ہے وہ گو زبان سے سے باپ یا ماں یا اس سے بھی زیادہ مہربان کے لیکن ایسا مذ ہب اس خالق فطرت کی طرف سے نہیں ہو سکتا جس نے انسانوں کے دلوں میں بھی ایسا ر تم پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے گناہ گاروں کو بخشتے ہیں حالانکہ ان کے دشمنوں نے ان کافی الواقعہ نقصان کیا ہوتا ہے لیکن کبھی انسان کے کسی فعل سے خدائے تعالی کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔اسی طرح وہ مذہب جو کہتا ہے کہ خدائے تعالیٰ انسان کے گناہوں میں سے نجات دیتے وقت بعض گناہ رکھ لیتا ہے اور ان کی سزا میں پھر اسے دار العمل کی طرف واپس کرتا ہے کبھی خدائے تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا باعث نہیں ہو سکتا کیونکہ اس عقیدہ سے خدائے تعالی سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور ساتھ ہی مایوسی پیدا ہو کر انسان گناہوں پر اور بھی دلیر ہو جاتا ہے۔پس در حقیقت وہی مذہب تمام دنیا کیلئے ہو سکتا ہے جو ان تمام باتوں میں میانہ روی اختیار کرتا ہے اور ایک طرف تو خدائے تعالیٰ کا حسن پیش کر کے دنیا سے محبت کا خراج لیتا ہے اور اس کے احسانات قدیم و جدید یاد دلا کر اس کے جذبہ محبت کو ابھارتا ہے۔اور دوسری طرف اس کی عظمت اس کے جبروت اس کی بدیوں سے نفرت کا نقشہ کھینچ کر اسے اس سے تعلق پیدا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔اور یہ مذہب صرف اسلام ہی ہے۔چنانچہ قرآن کریم کی سب سے اسلام میں ہر طبیعت کے انسان کا علاج موجود ہے پہلی سورۃ میں جسے مسلمان ہر نماز میں پڑھتے ہیں اسی مضمون کو ادا کر کے ہر طبیعت کے انسان کا علاج کیا گیا ہے چنانچہ اس میں اللہ تعالیٰ بندہ کی طرف سے حکایہ فرماتا ہے بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمينَ الرَّحْمَنِ الرَّجِيمِ مِلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی میں شروع کرتا ہوں خدا کا نام لے کر جو رحمن ہے رحیم ہے سب خوبیاں اور سب حسن اور سب خوبصورتیاں جو کسی تعریف کی مستحق ہیں اور انسان کے دل سے کسی چیز کی تعریف نکلوا سکتی ہیں وہ سب کی سب خدائے تعالیٰ میں جمع ہیں پھر وہ صرف حسین ہی نہیں بلکہ محسن بھی ہے وہ رب ہے تمام جہانوں کا کہ اس نے تمام مادہ اور ارواح پیدا کی ہیں اور پھر ان کی انفرادی یا اجتماعی حالتوں میں ان کی خبر گیری کرتا ہے اور ہر ایک قسم کی تربیت کر کے ان کی طاقتوں اور قوتوں کو نشو و نما دے کر کمال تک پہنچاتا ہے وہ ایسا مہربان ہے کہ خدمت کا بدلہ ہی نہیں دیتا بلکہ بلا کسی کام یا خدمت کے اپنے پاس سے بھی بندہ پر اپنے فضل کی بارش کرتا ہے اور اسی پر بس نہیں۔