انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 237

را العلوم جلد ۳۰ ۲۳۷ اسلام اور دیگر مذاہب پھر ان مذاہب کے ہوتے ہوئے اسلام کی کیا ضرورت ہے اور ان کی موجودگی میں اسے دوسرے مذاہب کے پیروان کے سامنے پیش کرنے میں کیا فائدہ ہے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں اسلام یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ پہلا ہی مذہب نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی تمام بلاد میں اللہ تعالیٰ ہر قوم کی ہدایت کیلئے رسول بھیجتا رہا ہے وہاں یہ بھی دعوئی کرتا ہے کہ اسلام سے پہلے جس قدر مذاہب آئے تھے وہ اس وقت کی محدود ضروریات کے مطابق تھے اور اسی لئے ہر ایک قوم میں الگ الگ نبی بھیجے جاتے تھے تا انسانوں کو اس اعلیٰ ترقی کیلئے تیار کیا جائے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے مقدر تھی اور رسول کریم الله کے زمانہ میں بوجہ انبیاء کے زمانہ سے بعد واقع ہو جانے کے تمام دین ہلاکت کے کنارہ پر پہنچے ہوئے تھے اور خدائے تعالی کے بھیجے ہوئے پاک علوم میں انسان نے اپنی نادانی سے بہت سی باتیں اپنی طرف سے زیادہ کر کے اس پاک چشمہ کو مکدر کر دیا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الروم : (۳۲) یعنی خشکی میں بھی اور تری میں بھی لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے فساد ظاہر ہو گیا ہے۔اور قرآن کریم کے محاورہ کے مطابق خشکی سے مراد وہ عقل ہوتی ہے جو وحی الہی سے مجرد ہو اور تری سے مراد کلام الہی ہوتا ہے پس اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ لوگوں کی بد اعمالیوں کا نتیجہ اس وقت اس طرح ظاہر ہو رہا ہے کہ ایک طرف تو خواہشات نفسانی نے لوگوں کی عقلوں پر پردہ ڈال رکھا ہے اور لوگوں کی عقلیں بوجہ وفور ہوا و ہوس خراب ہو رہی ہے اور وہ اقوام جن کا دارومدار صرف عقل پر ہے بوجہ دنیا میں کامل طور پر منہمک ہونے کے اس مقام تک بھی پہنچنے سے محروم ہو رہی ہیں جہاں تک مجرد عقل انسان کو پہنچا سکتی ہے اور کلام الہی بھی بگڑ چکا ہے یعنی خدائے تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لئے مختلف ممالک اور مختلف اوقات میں جو نبی بھیجے تھے ان پر جو کلام نازل ہوا تھا اس میں بھی لوگوں نے اپنی عقل سے ایسے خیالات ملا دیئے ہیں کہ اسے بھی گندہ کر دیا ہے اور اس طرح وہ اقوام جن کا دارد مدار کلام الہی پر تھا اور جو اس چشمہ صافی سے سیراب ہوتی تھیں اب وہ بھی بوجہ اس چشمہ کے مکدر ہونے کے وہ روحانیت حاصل نہیں کر سکتیں جو وہ پہلے اس کے صاف پانی سے حاصل کرتی تھیں اس لئے ان میں بھی کمزوریاں اور بدیاں پھیل رہی ہیں پس جبکہ دنیا کی یہ حالت ہوتی رہی ہے تو ضرور تھا کہ خدائے تعالیٰ جو اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے ان کی خبر گیری کرے