انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 221

۲۲۱۔ہے کہ کیونکہ مثیل کہنے میں یہ نقص ہے کہ یہ کبھی بڑا ہوتا ہے اور کبھی چھوٹا اور کبھی برابر کا۔اگر مثیل کہا جاتا تو ہمارے مخالف تیسری شق کو لے لیتے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس بات کو پہلے ہی دور کر دیا تاکہ ایسا کرنے کا کسی کے لئے موقعہ ہی نہ رہے۔دیکھو آنحضرت ﷺ کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَونَ رَسُولاً - المنزل : (۱۶) حالانکہ آنحضرت ا حضرت موسی نے بہت بڑا درجہ رکھتے تھے تو مثل کبھی عین ہوتا ہے کبھی اعلیٰ اور کبھی ادنی۔تو خدا تعالٰی نے بجائے اس کے کہ ایک ایسا لفظ رکھتا جو تین پہلو رکھتا تھا جس کا ادنی درجہ لے کر حضرت مسیح موعود کی ہتک کی جاتی ایسا لفظ رکھ دیا کہ جس سے کوئی اور پہلو نکل ہی نہیں سکتا۔یعنی خدا تعالیٰ نے اس آنے والے نبی کو مثیل بدھ نہیں کہا بلکہ بدھ ہی کہا ہے۔مثیل کرشن نہیں کہا بلکہ کرشن ہی کہا ہے۔مثیل مسیحی نہیں کہا بلکہ مسیح ہی کہا ہے۔اور اسی طرح واخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ : ( الجمع :)) میں مثیل محمد قرار نہیں دیا۔بلکہ محمد ہی قرار دیا ہے تاکہ آپ کے درجہ کے کم کرنے والے آپ کے کمالات کا انکار نہ کر بیٹھیں۔غرض یہ ایک بڑی حکمت تھی جس کے لئے مثیل نہیں کہا گیا بلکہ اصل نبی کا نام دیا گیا۔یہ ہے کہ کوئی لفظ جو کسی کے متعلق بولا جاتا ہے وہ مثال دو سری عظیم الشان حکمت دینے کے لئے ہوتا ہے۔مثلا یہ کہیں کہ فلاں شیر ہے یا یہ کہیں کہ فلاں شیر کی طرح ہے تو ان دونوں فقروں میں بڑا فرق ہے۔کیونکہ مثال کے طور پر لفظ بولنے سے اس طرح مطلب واضح نہیں ہوتا۔جس طرح مجازا وہی لفظ بول دینے سے ہوتا ہے۔چنانچہ کسی کو مٹیل شیر کہنے سے جو اس کی حیثیت پیدا ہوتی ہے شیر کہنے سے اس سے بہت بڑھ کر ظاہر ہوتی ہے۔تو مسیح موعود کو جو اصل نام دیئے گئے ہیں۔اور کرشن ، بدھ ، مسیح ، محمد کہا گیا ہے اور ان کا مثیل کر کے نہیں پکارا گیا تو اسی لئے کہ تا اس سے آپ کے درجہ کی عظمت ظاہر ہو۔یہ ہے کہ اگر حضرت کرشن کے منہ سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ کرشن آئے گا بلکہ تیسری حکمت مثیل کرشن آئے گا۔اور حضرت بدھ کے منہ سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ بدھ آئے گا بلکہ مثیل بدھ آئے گا۔اور حضرت مسیح کے منہ سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ مسیح آئے گا بلکہ مثیل مسیح آئے گا۔اور آنحضرت ا سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ محمد " آئے گا بلکہ مثیل محمد