انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 220

العلوم جلد ۳۰ ۲۲۰ انوار خلافت اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے حضرت مسیح موعود کے اتنے نام کیوں رکھے گئے اور وہ یہ کہ خدا تعالٰی کی طرف سے بجائے اس کے کہ یہ کہا جاتا کہ کرشن بدھ ، مسیح اور محمد دوبارہ آئیں گے۔کیوں یہ نہ کیا گیا کہ سب کی طرف سے ایک ہی نبی کے آنے کی خبر دے دی جاتی۔اس طرح تمام لوگ ایک نقطہ پر بھی جمع ہو جاتے۔اور جب ان انبیاء کی پیشگوئی پوری ہوتی تو کسی کو دھوکا بھی نہ لگتا۔یہ کیوں کہا گیا کہ کرشن ہی آئے گا؟ یہ کیوں نہ کہہ دیا گیا کہ حضرت کرشن یہ پیشگوئی کرتے کہ ایک انسان آئے گا جس کی یہ یہ علامتیں ہوں گی۔اسی طرح حضرت مسیح ، حضرت بدھ اور آنحضرت سے یہ کیوں کہلایا گیا کہ مسیح اور بدھ اور محمد ہی آئیں گے۔یہ کیوں نہ کہلا دیا کہ ایک شخص آئے گا جس کی فلاں فلاں علامتیں ہوں گی۔اور اگر ایسا نہ کیا گیا تھا تو یہ تو کیا جاتا کہ ان سے یہ کھلا دیا ہو تا کہ ایک مثیل بدھ آئے گا۔مثیل کرشن آئے گا۔مثیل مسیح آئے گا۔اور مثیل محمد " آئے گا۔اس کی کیا وجہ ہے کہ ان انبیاء کے اصل نام لے کر کہا گیا کہ یہی پہلی حکمت ، دوبارہ آئیں گے۔ان کے اصل نام رکھ کر دھوکے میں ڈالنے کی کیا وجہ ہے؟ اس کی ایک بڑی حکمت تو اب کھلی ہے جبکہ ہماری جماعت میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔اگر مثیل کہا جاتا تو آج اس طرح یہ حقیقت نہ کھلتی۔کیونکہ مثیل کہنے سے یہ بات نہیں کھلتی کہ وہ جس کا مثیل ہے اس کے برابر ہے یا کم۔کیونکہ صرف ایک صفت کے اشتراک سے مثیل بن سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کا مثیل ہو لیکن اس کے تمام کمالات کا جامع نہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی بڑھ کر کمالات رکھنے والا ہو۔پس خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے نام بدھ ، کرشن ، مسیح اور محمد اور سب نبیوں کے جو نام رکھے۔یعنی فرمایا جَرَى اللَّهِ فِى حُلَلِ الأَنْبِيَاءِ (تذکرہ صفحہ ۷۹)۔تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ان انبیاء کا مسیح موعود کو مثیل کہا جاتا۔تو کہنے والے کہہ دیتے کہ آپ نبی نہیں ہیں کیونکہ مثیل کے لئے ضروری نہیں کہ ہر ایک بات میں مماثلت رکھے۔پس ان ناموں کے رکھنے سے بھی حضرت مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو کرشن کہا ہے اور کرشن ایک نبی کا نام ہے۔اس لئے آپ بھی نبی ہیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کو صحیح کہا ہے اور مسیح ایک نبی کا نام ہے اس لئے آپ بھی نبی ہیں۔خدا تعالٰی نے آپ کو محمد کہا ہے اور محمد ایک نبی کا نام ہے اس لئے آپ بھی نبی ہیں۔تو گویا پہلے انبیاء کے نام لے کر بتانے اور مثیل نہ کہنے کی یہی وجہ