انوارالعلوم (جلد 3) — Page 217
۲۱۷ انوار خلافت اور وہ تاریخ کی رو سے آ نہیں سکتا مگر اس کی علامتیں پوری ہو گئی ہیں۔اس لئے ہم یہ مان لیں کہ کوئی شخص اس کی خوبو پر آئے گا۔پھر کہا گیا ہے کہ بدھ دوبارہ آئے گا اور اس کے آنے کی علامتیں بھی پوری ہو گئی ہیں لیکن وہ تناسخ کی رو سے آنہیں سکتا اس لئے ہمیں ماننا پڑے گا کہ کوئی شخص اس کے کمالات حاصل کر کے اس کا نام پاکر آئے گا۔اسی طرح کہا گیا تھا کہ مسیح دوبارہ آئے گا۔اور اس کے دوبارہ آنے کی جو علامتیں بتائی گئی تھیں وہ پوری بھی ہو گئی ہیں۔لیکن چونکہ وہ فوت ہو چکا ہے۔اس لئے مانا پڑے گا کہ مسیح کے رنگ میں کوئی اور آئے گانہ کہ وہی مسیح۔اسی طرح آنحضرت ﷺ کے متعلق پیشگوئی تھی کہ آپ دوبارہ مبعوث ہوں۔گے لیکن چونکہ حقیقتاً آپ کا آنا تعلیم قرآن کے خلاف ہے اس لئے یہی تسلیم کرنا ہو گا کہ آپ ہی دوبارہ نہیں آئیں گے بلکہ آپ کا بروز اور مثیل آئے گا۔پس جبکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ کوئی شخص مرکز دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا اور یہ بھی ثابت ہے کہ تناسخ ایک باطل عقیدہ ہے اور یہ بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ حضرت کرشن بدھ ، مسیح اور آنحضرت ﷺ کے دوبارہ آنے کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ بچی ہیں تو اب سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔کہ ان سب کے رنگ اور صفات میں کوئی اور آئے گا۔اور جب کہ ان کے مثیلوں کا آنا ثابت ہوا۔تو پھر ایک ہی شخص کا ان سب کا مثیل ہو جانا بالکل ممکن ہے اور الگ الگ آدمیوں کے آنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ صفات ایک آدمی میں بہت سی اکٹھی ہو سکتی ہیں۔کیا یہ تو نہیں ہو تا کہ ایک شخص بہادر بھی ہو اور شریف بھی۔سخی بھی ہو اور رحم دل بھی۔حاتم ایک تو بڑا سخی انسان ہوا ہے۔جب کوئی بہت سخی ہو تو اسے حاتم کہتے ہیں۔رستم ایک بڑا بہادر ہوا ہے اور جس میں بہت بہادری پائی جائے اسے رستم کہتے ہیں۔افلاطون ایک بڑا فلسفی ہوا ہے اور جو کوئی بڑا فلسفی ہو تو اسے افلاطون کہتے ہیں۔جالینوس ایک بڑا طبیب ہوا ہے اور جو کوئی بڑا طبیب ہو تو اسے جالینوس کہتے ہیں۔لیکن کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی شخص بڑا سخی بھی ہو بڑا بہادر بھی ہو بڑا فلسفی بھی ہو اور بڑا طبیب بھی ہو۔اور جب ایسا ہو سکتا ہے تو ہم ایسے شخص کو اس کی چاروں صفات کی وجہ سے حاتم ، رستم ، افلاطون اور جالینوس کہہ سکتے ہیں۔حالانکہ جب کسی کو یہ نام دیئے جائیں گے تو ان ناموں کے اصلی مصداق دنیا میں نہیں آجائیں گے۔بلکہ یہی کہا جائے گا کہ ایک شخص میں ان چار آدمیوں کی صفات اکٹھی ہو گئی ہیں۔پھر ذرا شاعروں کے قصیدوں کو پڑھو تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ تو بہت سے انسانوں کے نام اپنے ممدوحوں کی