انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 209

۲۰۹ از خلافت کر دے گا اور تیرے دشمنوں کو تباہ کر دے گا۔غرض خدا تعالی کے ہر ایک کام میں آہستگی اور ترتیب ہوتی ہے۔اور خدا تعالیٰ نے ہر ایک کام کے لئے ایک تدبیر کی ہوئی ہے۔دیکھو دنیا کی ہدایت کے لئے خدا تعالی کی طرف سے نبی آتے ہیں جو دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہی ہوتے ہیں لیکن ان کے منوانے کے لئے کبھی یہ نہیں ہوا کہ آسمان سے فرشتے اترے ہوں۔اور آکر کہا ہو کہ ان نبیوں کو مان لو اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ انبیاء کے منکروں پر آسمان سے گولے برسے ہوں۔بلکہ قحط پڑتے ہیں ، زلازل آتے ہیں ، سیلاب آتے ہیں اور بھی بہت سی بلائیں نازل ہوتی ہیں۔لیکن نادان یہی کہتے ہیں کہ یہ کوئی نشان نہیں ہیں یہ تو پہلے بھی ہوا کرتے تھے۔تو خدا تعالٰی ہر ایک کام کے لئے تدبیر فرماتا ہے جیسا کہ آنحضرت ا کی کامیابی کے لئے تدبیر کی تھی اس کام کے لئے بھی خدا تعالی نے تدبیر کی۔آنحضرت اللہ کے زمانہ میں بھی خدا نے یہود کو سزا دینے کے لئے ایک تدبیر فرمائی تھی جو یہ تھی کہ جب آنحضرت ا مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے کفار سے معاہدہ کیا کہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کوئی فساد نہ کیا جائے اور مدینہ کی حفاظت میں مل کر کام کریں لیکن باوجود اس معاہدہ کے وہ شرارتوں سے باز نہ آتے۔آنحضرت ا ان کو معاف کر دیا کرتے لیکن جب حالت بہت خطرناک ہو گئی اور رسول کریم ال پر پھر گرا کر قتل کرنے کا منصوبہ انہوں نے کیا اور جنگ احزاب کے وقت جبکہ مسلمانوں کی حالت سخت نازک ہو رہی تھی بر خلاف معاہدہ کے کفار سے مل کر مسلمانوں کو ہلاک کرنا چاہا تو ان کے خلاف جنگ کرنے کا حکم ہوا۔لیکن جیسا کہ رسول کریم ﷺ کا طریق تھا آپ غالبا اس جنگ کے بعد بھی ان لوگوں سے نرمی کرتے۔لیکن خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ انہیں سڑا ہو اس لئے اس نے ایک تدبیر فرمائی۔آنحضرت ﷺ نے جب ان یہود کو کہا کہ آؤ میں تمہاری شرارت کے متعلق فیصلہ کروں تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہم تمہارا فیصلہ نہیں مانتے۔آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ تم اس معاملہ میں کس کو منصف مقرر کرتے ہو انہوں نے ایک آدمی کا نام لیا۔لیکن جس کا انہوں نے نام لیا تھا اس نے ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ ان کے سب قابل جنگ مردوں کو قتل کر دیا جائے۔اگر آنحضرت ا فیصلہ کرتے تو آپ ضرور نرمی فرماتے جیسا کہ اس قبیلہ کے دو بھائی قبیلوں سے نرم بر تاؤ کر چکے تھے۔لیکن خدا تعالٰی چونکہ چاہتا تھا کہ انہیں ان کے اعمال کی سزا ملے اس لئے اس نے یہ تدبیر کر دی کہ انہیں کی زبانی ایک شخص مقرر کروا کر انہیں سزا دلوا