انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxii of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page xxii

انوار العلوم جلد ۳ ۱۵ کتب طور پر آیت کریمہ ان الله اشترى من المومنين انفسهم وأموالهم بان لهم الجنه کی روشنی میں دینی کاموں کے لئے اپنے اموال کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے اور دعوت الی اللہ کے کام کی طرف متوجہ کیا۔دین اسلام اور علماء اسلام کی بری حالت کا نقشہ کھینچ کر فرمایا که: اب خدا تعالٰی نے یہ اہم ذمہ داری ہم کو سونپی ہے کہ ہم دنیا میں ایک روحانی انقلاب لائیں اور وہ انقلاب ممکن نہیں جب تک کہ ہم خود حضرت مسیح موعود کی فرمودہ تعلیم پر عمل پیرا نہ ہوں" آپ نے احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : پس چاہیے کہ ہر ایک احمدی مبلغ ہو کیونکہ اس زمانہ میں تم ہی خیرامت ہو اگر تم میں سے کوئی تبلیغ نہیں کرتا تو وہ اس امت کا فرد نہیں کہلا سکتا۔بلکہ یہود و نصاری میں سے ہو گا۔اسی طرح خیر امت کی یہ بھی علامت ہے کہ اس میں سے ایک خاص گروہ ہو جو دن رات تبلیغ میں ہی لگا رہے۔اور اس کے اخراجات دوسرے لوگ برداشت کریں۔پس تم لوگ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے نہ اپنے مالوں سے اور نہ اپنی جانوں سے دریغ کرو تاکہ آج کے بعد دشمن کو تم پر حملہ کرنے کا موقع نہ ملے"۔(۱۳) ذکر الهی ۱۹۱۶ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر ۲۸ - دسمبر کو حضور نے ذکر الہی کے موضوع پر خطاب فرمایا۔جس میں آپ نے نہایت اچھوتے اور دلنشیں انداز میں ذکر الہی اور اس سے متعلقہ امور کا ذکر کرتے ہوئے ذکر الہی سے مراد اس کی ضرورت تسمیں اور فوائد پر روشنی ڈالی آپ نے اسی مضمون میں موجودہ دور کے صوفیاء وغیرہ کے ذکر کی کیفیت بھی بیان فرمائی کہ ان کا انداز ذکر ان کو رسموں میں مبتلا اور خدا کے قرب سے دور کر رہا ہے۔آپ نے وضاحت فرمائی کہ ذکر چار قسم کا ہوتا ہے۔