انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 190

انوار العلوم جلد ۳۰ اس 19۔راستے الگ الگ تھے اور تم کئی منزلیں ایک دوسرے سے دور تھے پھر ایک ہی وقت میں اس قدر جلد تینوں جماعتیں واپس مدینہ میں کیونکر آگئیں اور باقی جماعتوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ مصریوں کو اس مضمون کا کوئی خط ملا ہے۔یہ تو صریح فریب ہے جو تم لوگوں نے بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ فریب سمجھو یا درست سمجھو ہمیں عثمان کی خلافت منظور نہیں۔وہ خلافت سے الگ ہو جائیں۔اس کے بعد مصری حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اب تو شخص کا قتل جائز ہو گیا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیں اور عثمان کا مقابلہ کریں۔حضرت علی نے بھی ان کو یہی جواب دیا کہ تم جو واقعہ سناتے ہو وہ بالکل بناوٹی ہے کیونکہ اگر تمہارے ساتھ ایسا واقعہ گزرا تھا تو بصری اور کوئی کس طرح تمہارے ساتھ ہی مدینہ میں آگئے۔ان کو اس واقعہ کا کس طرح علم ہوا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے پہلے سے ہی منصوبہ بنا رکھا تھا چلے جاؤ۔خدا تعالی تمہارا برا کرے۔میں تمہارے ساتھ نہیں مل سکتا۔(مصری لوگ خط ملنے کا جو وقت بتاتے تھے اس میں اور ان کے مدینہ میں واپس آنے کے درمیان اس قدر قلیل وقت تھا کہ اس عرصہ میں بصریوں اور کوفیوں کو خبر مل کر وہ واپس مدینہ میں نہیں آسکتے تھے پس صحابہ نے سمجھ لیا کہ یہ لوگ مدینہ سے جاتے وقت پہلے سے ہی منصوبہ کر گئے تھے کہ فلاں دن مدینہ پہنچ جاؤ اور خط کا واقعہ صرف ایک فریب تھا) جب حضرت علی کا یہ جواب ان باغیوں نے سنا تو ان میں سے بعض بول اٹھے کہ اگر یہ بات ہے تو آپ ہمیں پہلے خفیہ خط کیوں لکھا کرتے تھے۔حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے کبھی کوئی خط تم لوگوں کو نہیں لکھا آپ کا یہ جواب سن کر وہ آپس میں کہنے لگے کہ کیا اس شخص کی خاطر تم لوگ لڑتے پھرتے ہو (یعنی پہلے تو اس نے ہمیں خط لکھ کر اکسایا اور اب اپنی جان بچاتا ہے۔اس گفتگو سے یہ بات صاف معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ باغی جھوٹے خط بنانے کے پکے مشاق تھے اور لوگوں کو حضرت علی کی طرف سے خطہ بنا کر سناتے رہتے تھے کہ ہماری مدد کے لئے آؤ۔لیکن جب حضرت علی کے سامنے بعض ان لوگوں نے جو اس فریب میں شامل نہ تھے خطوں کا ذکر کر دیا۔اور آپ نے انکار کیا تو پھر ان شریروں نے جو اس فریب کے مرتکب تھے یہ بہانہ بنایا کہ گویا حضرت علی نعوذ باللہ پہلے خط لکھ کر اب خوف کے مارے ان سے انکار کرتے ہیں حالانکہ تمام واقعات ان کے اس دعوی کی صریح تردید کرتے ہیں اور حضرت علی کا رویہ شروع سے بالکل پاک نظر آتا ہے لیکن یہ سب فساد اسی بات کا نتیجہ تھا کہ ان مفسدوں کے پھندے میں