انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xviii of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page xviii

انوار العلوم جلد ۳ ایک مبلغ تقویٰ کے بدوں مبلغ کہلا نہیں سکتا اس واسطے آپ نے تقویٰ کے حصول کے آٹھ اہم اور آسان ذرائع بیان فرمائے کہ ان کو اختیار کرنے سے تقویٰ کا حصول بالکل سہل ہو جاتا ہے۔(۸) نجات کی حقیقت مورخه ۲۵ مارچ ۱۹۱۶ء کو ایک عیسائی دوست نے حضرت مصلح موعود سے دریافت کیا کہ اصلی اور حقیقی نجات کیا ہے اور کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے۔حضور نے اس کے جواب میں جو تقریر فرمائی وہ 2 مئی 1917ء کے الفضل میں شائع ہوئی۔حضرت صاحب نے اسلام اور عیسائیت کے فلسفہ نجات کا موازنہ کرتے ہوئے موجودہ عیسائیت کے پیش کردہ فلسفہ گناہ کفارہ اور نجات کے تصور کا باطل ہونا ثابت کیا اور نجات کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی برتری کے دلائل بیان فرمائے۔حضور نے فرمایا کہ انسانی فطرت اور روح میں یہ ملکہ ہے کہ وہ نہ صرف دکھ سے بچے بلکہ آرام بھی حاصل کرے جو مذہب ان دونوں مطالبات کو پورا کرتا ہے وہ انسان کی فطرت کے مطابق ہے اور جو مذہب صرف دکھ سے بچانے کا وعدہ کرتا ہے اور آرام حاصل کرنے کے متعلق خاموش ہے وہ فطرت کے مطابق نہیں ہو سکتا۔عیسائیت صرف دکھ سے بچانے کا وعدہ کرتی ہے اور یہ بات کامل خوشی کا باعث نہیں ہو سکتی۔لیکن اس کے مقابلہ میں اسلام دکھوں اور تکالیف سے بچا کر کامیاب اور با مراد ہونے کی بشارت دیتا ہے اور اس کا نام فلاح رکھا ہے جیسا کہ فرمایا أُولئِكَ عَلى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وا واليكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ نجات کے متعلق اسلامی تعلیمات بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ نجات خدا کے فضل سے وابستہ ہے لیکن خدا تعالٰی کے فضل کو جذب اور حاصل کرنے کا پہلا ذریعہ اعمال صالحہ ہیں اس لئے جب تک نیک اعمال نہ ہوں نجات نہیں ہو سکتی دیکھو ایک انسان کسی پر رحم کیوں کرتا ہے اس لئے کہ اس کو دکھ اور مصیبت میں دیکھتا ہے یعنی اس کا دکھ اس کے رحم کو کھینچتا ہے تو ہر بات کے لئے کوئی نہ کوئی ذریعہ ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ اعمال صالحہ ہیں اسی لئے اسلام نے اعمال صالحہ پر زور دیا ہے مگر نجات خدا کے فضل پر رکھی گئی ہے۔حضور نے فرمایا کہ اسلام خدا تعالیٰ کا کامل عرفان بخشا