انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 151

۱۵۱ سزا نہ دے۔لیکن شریعت کا فتویٰ ظاہری حالات کے مطابق ہوتا ہے اس لئے ہمیں اس کے متعلق بھی یہی کرنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔غیر احمدیوں کو لڑکی دینا ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود نے کی اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا۔اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔اب میں نے اس کی کچی تو یہ دیکھ کر قبول کرلی ہے۔بہ حضرت ابو بکر کو لوگوں نے کہا تھا کہ اگر آپ نے اپنے بعد عمر میں اللہ کو جانشین مقرر کیا تو بڑا غضب ہو گا کیونکہ یہ بہت غصیلے ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ ان کا غصہ اسی وقت تک گرمی دکھاتا ہے جب تک کہ میں نرم ہوں۔اور جب میں نہ رہوں گا تو یہ خود نرم ہو جائیں گے۔اسی طرح میرا نفس تھا جو یہ کہتا تھا کہ اگر کوئی ذرا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم کے خلاف کرنے تو اسے بہت سخت سزا دی جائے لیکن اب تو کچلا گیا ہے اور بہت نرمی کرنی پڑتی ہے۔تاہم میں اس بات سے خوش ہوں کہ دس ہی پکے احمدی ہوں لیکن اس بات سے سخت ناخوش ہوں کہ دس کروڑ ایسے احمدی ہوں جو حضرت مسیح موعود کا حکم نہ ماننے والے ہوں پس وہ لوگ جو ایسے ہیں وہ سن لیں کہ حضرت مسیح موعود نے اس بات پر بہت زور دیا ہے اس لئے اس پر ضرور عمل درآمد ہونا چاہئے۔میں کسی کو جماعت سے نکالنے کا عادی نہیں لیکن اگر کوئی اس حکم کے خلاف کرے گا تو میں اس کو جماعت سے نکال دوں گا۔ابھی چند ماہ ہوئے ایک شخص نے غیر احمدیوں میں اپنی لڑکی دی تھی میں نے اسے جماعت سے الگ کر دیا۔بعد میں اس نے بہت توبہ کی اور معافی مانگی لیکن میں نے کہا کہ تمہارا یہ اخلاص بعد از جنگ یاد آیا ہے۔اس لئے برکلہ خود با کد زد کے مطابق اپنے سر پر مارو۔ہمیں دیندار لوگوں کی ضرورت ہے۔میں