انوارالعلوم (جلد 3) — Page xiii
لوم جلد ۳ تعارف کتب " فاروق " کو اپنے دست مبارک سے لکھ کر دیں جو سات اکتوبر ۱۹۱۵ ء کے "فاروق" میں شائع ہو ئیں۔حضرت صاحب نے ایڈیٹر فاروق کو اس طرف توجہ دلائی کہ ہمیشہ اس نام کی عزت کی طرف جو آپ نے اپنے اخبار کے لئے پسند کیا ہے متوجہ رہیں اور اسے کبھی نہ بھلا ئیں۔عموماً مختلف اشیاء کے نام کے مفہوم میں ان کا کام بتانا مقصود ہوتا ہے۔مثلا دکان یا کار خانے کے نام میں ہی اس کا کام بتا دیا جاتا ہے۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ لوگ اپنے ناموں کے متعلق فکر نہیں کرتے کہ ہمارا نام کیا ہے اور کام کیا ہے؟ عربی جو الہامی زبان ہے اس میں جس قدر اشیاء کے نام ہیں وہ ان کی حقیقت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نام کام کے اظہار کے لئے ہوتے ہیں اور ہونے چاہئیں۔پس فاروق کو بھی اسم بامسمی ہونا چاہئے۔فاروق کے دو معنی ہیں۔ڈرنے والا اور حق و باطل میں فرق کرنے والا۔یہ دونوں رنگ اس میں ہونے چاہئیں۔یعنی اس کے مضامین خشیت الہی سے لکھے جائیں اور خشیت الہی پیدا کرنے والے ہوں۔اسی طرح اس میں حق و باطل میں فرق کر کے دکھایا جائے۔اور کبھی اس بات کے منوانے کی کوشش نہ کی جائے جو خود منوانے والے کے نزدیک غلط ہو۔اور اگر کبھی غلطی ہو جائے تو اس کا اعتراف کرنے کے لئے بروقت تیار رہنا چاہئے۔مضامین کی عبارت سنجیدہ ہو۔مضامین کے الفاظ کو زور دار ہوں لیکن گالیوں سے بالکل خالی۔دشمن کے خلاف بھی اس رنگ میں لکھنا چاہئے کہ اس کا دل بھی محسوس کرے کہ متانت اخلاص اور خیر خواہی سے مضمون لکھا گیا ہے۔وہ انسان کسی عزت کے قابل نہیں جو صرف لوگوں کو خوش کرنے کے لئے چٹارہ دار مضامین لکھتا ہے یا دل کا غصہ ظاہر کرنے کے لئے غصہ سے کام لیتا ہے۔اخلاص اور اصلاح مدنظر ہو اس کے بغیر نہ کوئی مضمون لکھا جائے اور نہ چھاپا جائے۔"فاروق" کی نظر وسیع ہو اور یہ نہ ہو کہ ایک معاملہ کی طرف متوجہ ہوئے تو اسی میں لگ گئے بلکہ ہر ایک بات میں اتنا ہی زور دو جس قدر اس کے مناسب ہے۔آخر میں حضور نے تحریر فرمایا : نیک نیتی اور اخلاص پر سب کاموں کی بناء ہو کیونکہ جس شخص کے کاموں کی ان پر بناء ہوتی ہے وہ کبھی ذلیل نہیں ہو تا۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور