انوارالعلوم (جلد 3) — Page 99
والعلوم جلد - ۳ ۹۹ انوار خلافت ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور وہ شہادت دے سکتے ہیں کہ آپ یہی کہہ کر بیعت لیا کرتے تھے کہ آج میں احمد کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو تا ہوں۔پس آپ لوگ بتائیں کہ آپ نے احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی یا غلام احمد کے ہاتھ پر چاروں طرف سے بڑے زور کے ساتھ آوازیں آئیں کہ ہم نے احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اگر آپ کا نام غلام احمد ہو تا۔تو آپ بیعت لیتے وقت یہ فرماتے کہ کہو آج میں غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔پس ثابت ہے کہ آپ اپنا تو نام احمد ہی قرار دیتے تھے۔چوتھا ثبوت آپ کے احمد ہونے کے متعلق یہ ہے کہ آپ نے اپنی کئی کتابوں کا چوتھا ثبوت کے خاتمہ پر اپنا نام صرف احمد لکھا ہے جو اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ آپ کے نام احمد ہے اگر احمد آپ کا نام نہ ہوتا تو کیوں آپ صرف احمد لکھتے۔اگر آپ کا نام غلام احمد تھا تو آپ کا اصل نام غلام قرار پا سکتا ہے نہ کہ احمد۔پس اگر مختصر نام آپ کبھی لکھتے غلام لکھ سکتے تھے۔نہ کہ احمد۔لیکن آپ نے احمد ہی اپنا نام لکھا ہے نہ کہ غلام جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا نام احمد تھا۔پانچواں ثبوت یہ ہے کہ یہی غیر مبائعین جو آج ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ پانچواں ثبوت ہم حضرت مسیح موعود کواحمد لکھتے ہیں۔وہ بار بار اپنی کتابوں میں حضرت مسیح موعود کو احمد قادیانی لکھتے رہے ہیں۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے ہی حضرت صاحب کے حالات کے متعلق ایک رسالہ لکھا تھا۔اس کا نام ہی احمد رکھا تھا۔اگر آپ احمد نہیں تھے تو آپ کے حالات پر جو رسالہ لکھا گیا اس کا نام احمد کیوں رکھا گیا۔اسی طرح خواجہ صاحب نے اپنی تحریروں میں حضرت صاحب کو احمد لکھا ہے۔غرض یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں تو یہ کہتے رہے کہ آپ احمد ہیں۔لیکن آج دھوکا دیتے ہیں کہ آپ احمد نہیں ہیں۔حضرت صاحب کے الہامات میں کثرت سے احمد ہی آتا ہے۔ہاں ایک یا دو جگہ چھٹا ثبوت غلام احمد بھی آیا ہے۔اور ان مقامات کے متعلق بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہاں بطور صفت کے آیا ہے کیونکہ رسول کریم ا ہے جبکہ صفت احمدیت کے مظہر اتم تھے۔تو حضرت مسیح موعود غلام لام احمد بھی ضرور تھے۔پس ان چند مقامات سے یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ نام نہیں