انوارالعلوم (جلد 3) — Page viii
بسم الله الرحمن الرحیم محمده و فصلی علی رسولہ الکریم یہ انوار العلوم" کی تیسری جلد ہے۔جو سیدنا حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی کی درج ذیل ۱۸ کتب / تقاریر اور مضامین پر مشتمل ہے۔« (1) چند غلط فہمیوں کا ازالہ الفصل 1 مارچ ۱۹۱۵ء میں حضرت مصلح موعود نے مولوی محمد علی صاحب کے رسالہ " القول ! کی ایک غلطی کا اظہار کے جواب میں ایک ضخیم اور مدلل کتاب "حقیقتہ النبوة " تصنیف فرمائی۔اس کے بعد حضور نے اس کتاب کا اختصار " چند غلط فہمیوں کا ازالہ" کے عنوان سے شائع فرمایا۔تا کثرت سے اس کی اشاعت ہو اور ہر شخص بآسانی اس کا مطالعہ کر سکے۔اس رسالہ میں حضور نے حضرت مسیح موعود کی نبوت کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ فرمایا ہے اور اس اعتراض کا کہ ہر مصلح کی جماعت اس کے درجہ میں افراط سے کام لیتی ہے نہ کہ تفریط سے نہایت عمدگی سے جواب دیا اس جواب کے آخر میں آپ فرماتے ہیں: میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مسئلہ نبوت کے متعلق حضرت مسیح موعود پر دو زمانے گزرے ہیں۔ایک تو وہ زمانہ تھا کہ آپ کو جب اللہ تعالی کی وحی میں نبی کہا جاتا تو آپ اس پرانے عقیدہ کی بناء پر جو اس وقت کے مسلمانوں میں پھیلا ہوا تھا۔اپنے آپ کو نبی قرار دینے کی بجائے ان الہامات کے یہ معنی کر لیتے تھے کہ نبی سے مراد صرف ایک جزوی نبوت ہے۔اور بعض دوسرے انبیاء پر جو مجھے فضیلت دی گئی ہے وہ بھی ایک جزوی فضیلت ہے اور جزوی فضیلت ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے"۔اب اس عبارت پر غور کرو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مسیح موعود پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہو گئے یا اس کا یہ مطلب ہے کہ نبی تو ہمیشہ سے