انوارالعلوم (جلد 3) — Page 41
رالعلوم جلد ۳۰ پیغام مسیح موعود بسم الله الرحمن الرحیم نحمده و فصلی علی رسولہ الکریم پیغام صحیح موعود علیہ السلام تقریر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی ) جو حضور نے اور جولائی ۱۹۱۵ ء بعد از نماز مغرب بمقام لاہور احاطہ میاں سراج دین صاحب میں ایک پبلک جلسہ میں فرمائی) میں لاہور کوئی تقریر کرنے یا کسی جلسہ میں شمولیت کے لئے نہیں آیا تھا ملکہ میرے حلق میں کچھ تکلیف تھی اور اس تکلیف کی وجہ سے میں مجبور ہوا کہ لاہور آکر اس کا علاج کراؤں۔جب میں یہاں آیا تو میرے دل میں تحریک ہوئی کہ اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے مجھے اس تکلیف سے آرام ہو گا یا نہ ہو گا اور خدا ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ میں اس بیماری سے شفا پاؤں گا یا نہ پاؤں گا لیکن خدا تعالیٰ نے جب مجھے موقع دیا ہے کہ میں اس صوبہ کے دار الامارت میں آیا ہوں جس کا میں باشندہ ہوں تو بہتر ہے کہ میں اس جگہ پر ان تمام اصحاب کو جو حق طلبی کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ پیغام پہنچا دوں جو اس خدا نے جو تمام انسانوں کا خالق ہے اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک معمولی چپڑاسی۔چپڑاسی بھی نہیں کوئی چوہڑا چمار گلے میں ڈھولن ڈال کر ڈم ڈم کرتا ہوا گلی میں سے گزرتا ہے تو لوگ دوڑتے آتے ہیں کہ کیا ڈھنڈورا پیٹتا ہے اور کیا کہہ رہا ہے تو میں کوئی وجہ نہیں دیکھتا کہ وہ انسان جو دنیاوی حیثیت کے لحاظ سے بھی معزز ہو اور مخالف بھی اقرار کریں کہ وہ معزز و مکرم ہے۔جب دنیا میں پکار پکار کر کہے کہ میں خدا کی طرف سے ڈھنڈورا دیتا ہوں۔اے سننے والو سنو ! تو کیوں ہر ایک آدمی پر فرض نہ ہو کہ کم از