انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 609

العلوم جامد زنده ناب کے لئے نہیں جائے گا جہاں کسی زمانہ میں کروڑوں کروڑ روپے ملتے ہوں مگر اب کچھ نہ حاصل ہوتا ہو۔لیکن اس کے بجائے اس گھر پر چلا جائے گا جہاں اسے آج ایک پیسہ ملنے کی امید ہو۔پس وہ مذہب جو کسی زمانہ میں دیتے تھے خواہ وہ کتنا زیادہ ہی دیتے تھے۔لیکن اب نہیں دیتے ان کا تو نام ہی نہیں لینا چاہئے۔کیونکہ ہمیں تو ایک ایسے مذہب کی ضرورت ہے جو آج دے اور ہمارے موجودہ درد کی دوا کرے۔ایک شاعر کہتا ہے۔ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دل کی دوا کرے کوئی پس ہمیں تو اس وقت ضرورت ہے۔ورنہ یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ دوسرے مذاہب بھی کسی وقت زندہ تھے۔ان میں بھی خدا کے پیارے اور محبوب لوگ ہوئے۔ان پر چلنے والے بھی خدا سے کلام کرتے تھے۔اور ان میں بھی نبی اور رسول بھیجے گئے۔کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرُ (قاط (۲۵) کہ کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں ہم نے نذیر نہ بھیجا ہو۔اس لئے عیسوی موسوی ، زرتشی وغیرہ سب مذاہب زندہ تھے۔مگر اپنے اپنے وقت میں جب ان کا وقت گزر گیا تو وہ مردہ ہو گئے۔اور ہمیں آج کسی مردہ مذہب کی ضرورت نہیں بلکہ زندہ کی ہے۔اور وہ اسلام ہی ہے۔پھر حضرت مرزا صاحب کی اور کئی حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا چوتھانشان ایک پیش گوئیاں ہیں جو نہایت صفائی کے ساتھ پوری ہو ئیں۔جب بنگالہ کی تقسیم ہوئی اور اس پر بڑا شور پڑا۔میموریل بھیجے گئے ، سٹرائیکس ہو ئیں ، فساد ہوئے۔مگر گورنمنٹ نے ایک نہ مانی اور صاف جواب دے دیا۔کہ اس حکم کو بدلا نہیں جا سکتا۔ایسے وقت میں جب کہ بنگالیوں کو یہ جواب مل چکا تھا اور وہ مایوس ہو چکے تھے۔تو حضرت مرزا صاحب نے اپنی یہ پیش گوئی شائع کی کہ "پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی " ( تذکرہ صفحہ ۵۹۶) جب یہ پیش گوئی شائع ہوئی تو اور تو اور بنگالی اخباروں نے بھی اس پر ہنسی اڑائی۔اور لکھا کہ ہمیں تو صاف جواب مل گیا ہے مگر یہ کہتے ہیں کہ دلجوئی ہوگی۔اس کے علاوہ پنجاب کے اخباروں نے ہنسی اڑائی اور لکھا کہ مرزا صاحب پہلے تو صرف نبوت کا دعوی کرتے تھے اب سیاست دان بھی بننے لگے ہیں۔مگر لوگوں کی یہ نہسی اور مخالفت ثبوت تھا اس بات کا کہ کسی انسان کے وہم و قیاس میں بھی نہیں