انوارالعلوم (جلد 3) — Page 607
انوار العلوم جلد ۳۰ 4-6 راستوں پر سے آئے وہ گھس گئے۔آپ میں سے جو لوگ قادیان گئے ہیں انہوں نے دیکھا ہو گا کہ بٹالہ سے قادیان تک کی سڑک پر لوگوں کی کثرت آمد و رفت کی وجہ سے کتنے کتنے بڑے گڑھے پڑ جاتے ہیں حالانکہ ہر سال ہزاروں روپوؤں کی مٹی گورنمنٹ ڈلواتی ہے۔تو یہ حضرت مرزا صاحب کی پیش گوئی پوری ہو رہی ہے جو آپ نے اس وقت کی تھی جب کہ آپ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا۔پس اس پیش گوئی نے پورا ہو کر ثابت کر دیا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔پھر حضرت مرزا صاحب کی حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا دوسرانشان صداقت کا ایک اور نشان دیکھئے۔طاعون جس نے ہندوستان کے علاقوں کے علاقے تباہ و برباد کر دیئے ہیں۔اس کے ہندوستان میں آنے سے پندرہ سال پہلے حضرت مرزا صاحب نے خبر دی تھی۔پھر تین سال پہلے بہت کھول کر بتا دیا تھا کہ اپنی اصلاح کر لو ورنہ اس سے تباہ ہو جاؤ گے۔پھر جب بمبئی میں پہلے پہل پھوٹی تو آپ نے بتایا کہ اب بھی موقع ہے کہ اصلاح کر لو ورنہ تمام ملک میں پھیل جائے گی۔پھر جب جالندھر میں نمودار ہوئی تب آپ نے اس سے محفوظ رہنے کی ترکیب بتائی لیکن لوگوں نے توجہ نہ کی۔جس کا نتیجہ جو کچھ ہوا وہ ظاہری ہے اس کے بعد ایسے ایسے خطر ناک حملے ہوئے اور ہو رہے ہیں کہ علاقوں کے علاقے تباہ وبرباد ہو گئے ہیں۔اور میں سال کے قریب اس کو آئے ہوئے ہو گئے ہیں۔مگر ابھی تک جانے کا نام نہیں لیتی۔یہ بھی ایک بہت بڑا ثبوت ہے حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا۔اور جب آپ کی صداقت ثابت ہو گئی تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اسلام زندہ مذہب ہے کیونکہ اسی پر چل کر آپ نے یہ مرتبہ حاصل کیا۔پھر ۱۹۰۵ء میں جو خطرناک زلزلہ آیا حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا تیسرا نشان ہے اور جس سے بہت زیادہ جان و مال کا نقصان ہوا ہے۔بڑی بڑی عمارتیں گری ہیں اور میں ہزار انسان صرف ہندوستان میں ہی ہلاک ہوئے ہیں۔اس کے آنے کی خبر بھی حضرت مرزا صاحب نے پیشتر سے دی ہوئی تھی۔اس کے متعلق انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا میں لکھا ہے کہ آج تک اس سے زیادہ سخت زلزلہ کبھی نہیں آیا۔اسی طرح حضرت مرزا صاحب نے کہا تھا کہ میں نے دنیا کو اسلام کے زندہ مذہب