انوارالعلوم (جلد 3) — Page 602
انوار العلوم جلد - ۶۰۲ زندون ہے بلکہ ناراضگی کا ہے۔اسی طرح اگر کوئی خدا تعالیٰ کو پکارتا ہے اور بڑے درد اور محبت کے ساتھ پکارتا ہے لیکن وہ آگے سے کوئی جواب نہیں دیتا تو اسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ خدا اس سے بڑا خوش ہے بلکہ یہی کہا جائے گا کہ یا تو ناراض ہے اور یا کوئی ہے ہی نہیں۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ موجود ہو اور خوش بھی ہو لیکن جواب نہ دے۔امریکہ میں ایک انگریز ہوا ہے اس نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا مصائب اور آلام ، دکھ اور تکالیف سے تباہ اور برباد ہو رہی ہے مگر وہ اس کے بچانے کے لئے آگے نہیں بڑھتا۔ایک ماں باپ جب دیکھتے ہیں کہ بچہ کو کوئی تکلیف ہے تو وہ ہمہ تن اس کے دور کرنے کی کوشش کرنی شروع کر دیتے ہیں۔لیکن خدا کو تو ماں باپ سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت اور الفت ہے وہ کیوں ان کے بچانے کی کوئی صورت نہیں کرتا۔اور ان کو ایسی ترکیب نہیں بتاتا جس سے وہ ہلاک نہ ہوں۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا کا انسانوں سے کوئی تعلق اور واسطہ ہی نہیں ہے۔پھر وہ کہتا ہے اچھا اگر یہ مان لیا جائے۔کہ سارے کے سارے انسان اس قابل نہیں کہ خدا ان سے تعلق رکھے تو پھر ساری دنیا میں کوئی تو ایسا انسان ہونا چاہئے جس سے تعلق ہو۔لیکن کوئی بھی نظر نہیں آتا۔اس لئے معلوم ہوا کہ کوئی خدا ہی نہیں ہے۔یہ اس نے کیوں کہا؟ اس لئے کہ انسان کی فطرت گواہی دیتی ہے کہ خدا اس سے کلام کرے اور اسے اپنا مقرب بنائے۔مگر اس فطرتی تقاضا کو سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب پورا نہیں کرتا۔قرآن ہی کہتا ہے۔کہ جب انسان میں اعلیٰ اخلاق پیدا ہو جائیں اور وہ بدیوں سے دور ہو جائے تو اسے خدا تک لے جایا جاتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُو اِفيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا العنكبوت: ۷۰) کہ ہمارے راستہ میں جو کوئی کوشش اور سعی کرتا ہے اس کو ہم ان راستوں پر چلاتے ہیں جن پر چل کر وہ ہم تک پہنچ جاتا ہے۔تو اسلام اس بات کا مدعی ہے کہ اسی دنیا میں مومن کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ جن سے اسے اللہ کی محبت اور قرب حاصل ہو سکتا ہے۔اور اس کے حاصل کرنے کی انسان کو ضرورت ہے۔اس لئے اسلام ہی اس قابل ہے کہ قبول کیا جائے۔میں ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہوں جو ابتدائے اسلام کے وقت مسلمان نہیں ہوئی بلکہ