انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 599

۵۹۹ زندون ہوتے ہیں اور محدود اعمال کا بدلہ بھی محدود ہونا چاہئے نہ کہ غیر محدود۔مگر ہم کہتے ہیں کہ انسان کو محدود اعمال کرنے پر مجبور کس نے کیا ہے۔اسی نے جس نے اسے مار دیا اور زندہ نہ رہنے دیا اور وہ پر میشور ہے۔اگر وہ انسان کو زندہ رہنے دیتا تو وہ اور عمل کرتا۔پس جب خدا کے فعل سے انسان کے اعمال محدود رہتے ہیں تو پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ چونکہ تم نے اعمال محدود کئے ہیں اس لئے نجات بھی محدود وقت کے لئے دی جاتی ہے۔کیا یہ ظلم نہیں ہے۔ضرور ظلم ہے۔کیونکہ انسان کو خود ہی تو مارا جاتا اور عمل کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔مگر پھر اس کی سزا اس پر ڈالی جاتی ہے۔اور بیچارے کو بلاوجہ جونوں کے چکر میں ڈالنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔جب ایک عقلمند انسان اس پر غور کرے گا کہ انسان کو بلاوجہ اور بغیر اس کے قصور کے مکتی خانہ سے نکال کر تکالیف اور مصائب میں ڈال دیا جاتا ہے تو وہ کہے گا کہ عجیب خدا ہے جو خود ہی ہمیں نیک اعمال کے کرنے سے مار کر روک دیتا ہے اور پھر خود ہی کہتا ہے کہ چونکہ تم نے محدود اعمال کئے ہیں اس لئے محدود نجات دی جاتی ہے اور اس کے بعد پھر تمہیں جو نوں کے چکر میں گردش کرنی ہے۔کیا اس عقیدہ سے اس کے دل میں نفرت نہیں پیدا ہوگی۔ضرور ہوگی۔پھر اسی طرح جب وہ یہ خیال کرے گا کہ مجھ پر پر میشور نے بلا کسی وجہ اور سبب کے قبضہ کر لیا ہے اور اپنے قواعد مجھ پر جاری کر دیئے ہیں تو وہ کہے گا کہ اس کا کیا حق تھا کہ ایسا کرتا۔کیونکہ روح اور مادہ خود بخود موجود تھے اور ان کے ملنے سے میں بن گیا ہوں۔ایسی حالت میں پر میشور کا مجھ پر حکومت جتانا صریح ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ظالم اسی کو کہتے ہیں جو کمزوروں کو دبائے۔اسی طرح پر میشور نے کیا ہے۔روح اور مادہ کمزور تھے ان پر اس نے قبضہ کر کے ہمیں تکلیف میں ڈال دیا ہے۔اگر روح اور مادہ کو اپنی اصلی حالت میں رہنے دیا جاتا۔تو نہ ہم بنتے اور نہ ان تکالیف اور مشکلات میں پڑتے۔اور نہ جونوں کے چکر میں گردش کرتے۔یہ اور اسی قسم کی اور باتیں ایسی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ سے نفرت پیدا کرانے کا موجب بنتی ہیں۔اس لئے جس مذہب میں یہ پائی جائیں وہ زندہ مذہب نہیں ہو سکتا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کون سا مذ ہب ہے جو خدا کا قرب حاصل کرانے والا مذہب خدا سے ملاتا اس کی محبت اور قرب حاصل کراتا، اس کے فضلوں کا وارث بناتا، اور برائیوں گناہوں سے بچاتا ہے۔اس کے لئے ہمیں ان بیہودہ اور لغو باتوں میں نہیں پڑنا چاہئے جن کا ہمارے مقصد اور مدعا سے کوئی تعلق نہیں