انوارالعلوم (جلد 3) — Page 576
رالعلوم جلد ۳ ۵۷۶ پچاس ہزار بسن ۷۵۵اء بارہ ہزار منڈورا ساٹھ ہزار کیلیپیریا ۶۱۷۸۳ پچیس ہزار پیرو اور اکتالیس ہزار کیوٹو ایکواڈور بارہ ہزار کیراکس تین ہزار فیلا ۶۱۸۶۰ FIAYA FIAA+ خدا کے قمری نشان براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد کا زمانہ ۶۱۸۸۳ ۶۱۸۸۳ FLAGY ۶۱۹۰۲ +19+0 سان فرانسسکو ۱۹۰۶ء ڈیڑھ ہزار اڑھائی ہزار و پلیسیریز و چلی ۱۹۰۷ ایک ہزار جمیکا $19۔2 تین لاکھ مینیا اور کیل پیپر یا ۶۱۹۰۸ دو ہزار اسمحيا پتیس ہزار کیرا کیٹوا چھیں ہزار جاپان ہیں ہزار مانٹ پیلی پندرہ ہزار هندوستان اس گفتی کو دیکھو کہ پہلے دو سو نوے سال میں تین لاکھ تیرہ ہزار اموات زلزلوں سے ہوئیں ہیں اور گیارہ زلزلے آئے ہیں۔اور ان چھبیس سال میں چار لاکھ تین ہزار اموات ہوئی ہیں۔اور دس زلزلے آئے ہیں۔گویا ایک لاکھ کے قریب ان سے زیادہ (یعنی سخت زلزے) اور اس کے بعد اٹلی کا زلزلہ جو ۱۹۱۴ء میں آیا ہے۔اور لڑکی کا زلزلہ شامل کیا جائے۔تو قریباً ایک لاکھ اموات اور دو زلزلے اور زیادہ ہو جاتے ہیں۔پس غور کرو کہ تین سو سال میں جس قدر زلازل دنیا میں آئے تھے انکی اموات کی تعداد سے حضرت مسیح موعود کے الہام کے بعد جو زلازل آئے ہیں ان میں اموات کی تعداد زیادہ ہے۔اور قلیل عرصہ میں بہت سے زلزلے آئے ہیں۔پھر دیکھو کہ کس طرح حضرت کے اس الہام کے بعد جس خاص طور پر زلزلے آنے اور قریب آنے کا ذکر تھا متواتر چار سال یعنی پانچ چھ سات اور آٹھ میں زلزلے آئے ہیں۔اور ان چار سال میں اموات کی جو تعداد ہے وہ بھی اس تین سو سال کی اموات سے زیادہ ہے۔یعنی تین سو سال میں تین لاکھ تیرہ ہزار اموات ہوئی ہیں۔اور ان چار سال کے عرصہ میں حضرت صاحب کے دعوے تین سو سال کے زلزلوں کی اموات سے سات ہزار آدمی زیادہ مرے ہیں۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ - آخر میں میں تمام طالبان حق سے عرض کرتا ہوں کہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں پر رحم کرو۔اور اس دریدہ دہنی سے باز آؤ جو خدا تعالیٰ کے مرسل کے مقابلہ میں کی جاتی ہے۔خوب یاد