انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 31

م جلد ۳۱ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب پیچھے نماز ترک کر دیں لیکن چونکہ وہ اللہ تعالٰی کا مرسل ہوگا اس لئے اس کی جماعت کی خصوصیت یہ ہوگی کہ ان کا امام انہی میں سے ہو گا نہ کہ ان دوسرے فرق سے جو دعوائی اسلام کرتے ہوں گے۔غرض غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے کا ترک ہر گز کسی فرض کا ترک نہیں بلکہ قرآن کریم و احادیث کی رو سے امام جماعت امامت کے اہل انسان کو بنانا چاہیئے اور چونکہ ایک مامور اور نامور بھی مرسل نامور اور پھر مسیح موعود کا انکار ایک خطرناک جرم ہے جو انسان کے تعلق کو اللہ تعالیٰ سے تو ڑ دیتا ہے۔اس لئے مسیح موعود کا منکر ہر گز ایک احمدی کی امامت کا اہل نہیں اور بموجب حدیث جماعتِ مسیح موعود کا امام خود انہی میں سے ہونا چاہئے اور خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو حکم دیا ہے اور یہ فیصلہ قیاسی نہیں مطابق الہام ہے۔علاوہ ازیں آپ یہ بھی خیال فرما دیں کہ مسیح موعود کی نسبت رسول الله الا حَكَمًا عدلا (بخاری کتاب بدء الخلق باب نزول عیسی ابن مریم علیهما السلام) فرماتے ہیں یعنی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ کرنے کے لئے آئے گا اور اس کے فیصلے بالکل درست ہوں گے پس جب مسیح موعود کے فیصلوں کو آنحضرت او درست قرار دیتے ہیں تو اور کسی انسان کا کیا حق ہے کہ ایک شخص کو مسیح موعود مان کر پھر بھی کہے کہ اسکے بعض فیصلوں کو مان کر اسلام کے بعض احکام کو ترک کرنا پڑتا ہے۔کیا حَكَمًا عدلا کے فیصلے غلط ہو سکتے ہیں ؟ اس کا تو ہر ایک حکم اسلام کے ماتحت ہی ہو گا۔پس یہ بحث تو ہو سکتی ہے کہ مرزا صاحب واقعہ میں مسیح ہیں یا نہیں مگر ان کو ی مسیح مان کر ان کے فیصلوں کو اسلام کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔کہ قرآن کریم میں ہمارا نام مسلم رکھا گیا ہے اور ہمیں - تیسرا سوال آپ کا یہ ہے : مختلف فرقے بنانے سے روکا گیا ہے پھر ہم کس طرح احمدی کہلائیں اور ایک اور فرقہ کی بنیاد رکھیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ احمدی نام ہمارے مذہب کا نہیں۔ہمارا مذہب اسلام ہی ہے۔لیکن جب کہ اس وقت مسلمانوں میں ہزاروں فرقے موجود ہیں اگر ہم صرف مسلمان کہلا ئیں تو دنیا ہماری خصوصیات سے کس طرح واقف ہو۔اس وقت احمدی کا لفظ گویا ہمارے لئے ایک اشتہار ہے اور اس کے یہ معنی نہیں کہ احمدی کوئی نیا ہب ہے بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور اس جماعت میں شامل ہیں جو مسیح موعود کو ماننے والی ہے۔دیکھئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین کا خطاب دیا ہے یا نہیں اور پھر بہت سے آدمیوں کو نبی کر کے پکارا ہے یا نہیں۔پھر کیا یہ سمكُم