انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 527

ام جلد ۵۲۷ ذکرائی خیالات سے انسان بچ جائے گا۔اگر ناک کی جس سے کام لیا جاتا تو اس کے لئے ضروری ہو تاکہ اول خوشبو کا انتظام کیا جاتا پھر ناک کی جس قید نہیں رکھی جاسکتی۔متفرق لوگ جو نماز میں شامل ہوتے یا پاس سے گذرتے اگر کئی خوشبو میں استعمال کرنے والے ہوتے تو توجہ بجائے قائم رہنے کے مختلف خوشبوؤں کی وجہ سے ایک طرف سے دوسری طرف پھرتی رہتی۔ناک کی طرح کان کی حس بھی قید نہیں رکھی جا سکتی یعنی یہ بات انسان کے اختیار میں نہیں کہ جس بات کو چاہے سنے جس بات کے سننے سے چاہے انکار کر دے۔بلکہ جس قدر آوازیں ایک وقت میں بلند ہوں سب کو سننے کے لئے انسان مجبور ہوتا ہے۔بلکہ کئی آواز میں اگر یک لخت بلند ہو جاویں تو آدمی کوئی بھی بات نہیں سن سکتا۔پس اگر کانوں کو کام کرنے دیا جائے تو وہ یا تو سب آوازوں کو سنیں گے یا بالکل کچھ بھی نہ سنیں گے۔مگر بر خلاف ان حسوں کے آنکھیں انسان کے اختیار میں ہوتی ہیں ان کو یہ ایک جگہ پر رکھ سکتا ہے۔اور جس چیز کو دیکھنا نہ چاہے اس سے بلا تکلف نظر ہٹا سکتا ہے اور جس چیز کو دیکھنا چاہئے اس پر بلا تکلف نظر کو قائم رکھ سکتا ہے۔پس رسول کریم نے خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت نماز میں توجہ قائم رکھنے کے لئے اسی جس کو چنا اور حکم دیا کہ نماز میں اپنی نظر کو سجدہ کی طرف رکھا کرو۔مگر ساتھ ہی حکم دیا کہ سجدہ کے مقام پر کوئی خوبصورت چیز نہ ہو بلکہ نظارہ میں اتحاد ہو۔یعنی ایک ہی قسم کا ہو۔جب ایک مسلمان اپنی نظر کو سجدہ کے مقام کی طرف رکھے گا۔تو اول تو سجدہ کا خیال اس کے دل پر غالب آکر اس کو عبادت کے خیال میں مشغول رکھے گا۔دوم اس طرح اس کی دوسری حسیں جن کا قاعدہ ہے کہ یا تو بالکل بند کی جاویں یا بالکل آزاد رہیں بند ہو جائیں گی۔تیسرے یہ فائدہ ہوگا کہ چونکہ خیالات کو تحریک دلانے والے بیرونی امور ہی ہوتے ہیں۔اور بیرونی امور کی اطلاع انسان حسوں کے ذریعہ سے پاتا ہے مگر آنکھیں چونکہ کام میں لگا دی گئی ہیں اس لئے دوسری حسیں ایک حد تک باطل ہو جاویں گی اور آنکھوں کے سامنے چونکہ کوئی ایسی چیز نہ ہوگی جو نماز کے علاوہ کوئی اور خیال پیدا کر سکے اس لئے نمازی کی توجہ نماز ہی کی طرف قائم رہے گی۔رسول کریم ان سے ثابت ہے کہ ایک دفعہ با تصویر پر وہ آپ کی نماز کی جگہ کے سامنے لٹکایا ) گیا تو آپ نے اسے ہٹوا دیا کہ اس سے توجہ قائم نہیں رہتی۔یہ حکم آپ نے اپنی امت کے فائدہ کے لئے دیا۔سے بخاری کتاب الصلوة - باب ان صلی فی ثوب مصلب ار تصاویر هل تفسد صلاته وما ينهي من ذلك