انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 524

العلوم جلد ۳ ۵۲۴ ذکراتی جو لوگ ان حکمتوں کو یاد رکھ کر ان کو عمل میں لائیں گے وہ ضرور فائدہ اٹھا ئیں گے۔ہاں یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ انسان کے جسم کے جس طرح جوڑ ہوتے ہیں۔اسی طرح قیام رکوع سجود وغیرہ میں جو الفاظ کہے جاتے ہیں وہ نماز کے جوڑ ہیں۔ان جوڑوں پر جو کلمات کہے جاتے ہیں ان کی طرف خاص توجہ رکھنی چاہئے۔اگر ایسا کیا جائے گا تو نماز بہت مضبوط ہو جائے گی ورنہ گر جائے گی۔اب میں وہ طریق نماز میں توجہ قائم رکھنے کے بتاتا ہوں جو نماز کی شرائط میں داخل نہیں ہیں اور نہ انہیں شریعت نے نماز کا جزو مقرر کیا ہے مگر کوئی ان طریق پر عمل کرے تو نماز میں توجہ قائم رہ سکتی ہے۔اگر نماز پڑھتے ہوئے توجہ قائم نہ رہے تو آہستہ آہستہ لفظوں کو ادا گیارہواں طریق کرو۔انسانی دماغ کی بناوٹ اس قسم کی ہے کہ جو چیز اس میں بار بار داخل کی جائے اس کو وہ فورا سامنے لے آتا ہے۔اور جو کبھی کبھی اس کے سامنے آئے۔اس کو مشکل سے سامنے لا سکتا ہے۔مثلاً زید کو اگر ہر روز دیکھا جائے تو اس کا خیال کرنے میں فورا اس کی شکل سامنے آجائے گی۔لیکن اگر کبھی کبھی دیکھا ہو تو اس کا نام سننے یا لینے کے کچھ دیر بعد اس کی شکل ذہن میں آئے گی اور وہ بھی پوری طرح صاف نہ ہوگی۔پھر دیکھو جو زبان بچپن میں سیکھی جائے اس زبان میں کوئی عبارت اگر انسان بولے یا سنے تو اس کے الفاظ کے ساتھ ہی معانی اس کے ذہن میں آجاتے ہیں۔مثلاً اگر پانی کا لفظ ذہن میں آئے تو بلا کسی وقفہ کے پانی کی حقیقت بھی اس کے ذہن میں آجائے گی۔یا اگر روٹی کا لفظ وہ کسی سے سنے تو بلا کسی دیر کے روٹی کے معنی اس کے ذہن میں حاضر ہو جائیں گے۔مگر غیر زبان میں جس پر پوری طرح اختیار حاصل نہ ہو یہ بات نہیں ہوتی بلکہ الفاظ کے سننے کے بہت دیر بعد اس کے مطالب ذہن میں آتے ہیں۔مثلاً انگریزی پڑھنے والے بچے ، جب تک وہ انگریزی کے پورے ماہر نہیں ہو جاتے جب وہ CAT اپنی کتاب میں پڑھیں گے تو اس لفظ کی حقیقت ان کے ذہن میں دیر بعد آوے گی۔مگر بلی کہنے سے فورا اس جانور کی تصویر ان کے ذہن میں آجاوے گی۔اسی وجہ سے چونکہ سوائے عربی بولنے والے لوگوں کے عام طور پر مسلمان عربی زبان سے ناواقف ہوتے ہیں۔نماز میں بہت سے لوگوں کی توجہ قائم نہیں رہتی کیونکہ توجہ تب قائم رہ سکتی ہے جبکہ مطالب بھی ذہن میں مستحضر ہوں۔مگر بوجہ عربی سے ناواقفیت کے جس وقت وہ