انوارالعلوم (جلد 3) — Page 511
را العلوم میاد ۵۱۱ ذکراتی جگائے۔اسی طرح اگر بیوی کی آنکھ کھلے تو وہ بھی ایسا ہی کرے کہ خود تجد پڑھے اور میاں کو جگائے اگر وہ نہ جاگے تو اسکے منہ پر چھینٹا مارے دیکھو ایک طرف تو رسول کریم ﷺ نے بیوی کے لئے میاں کا ادب کرنا نہایت ضروری قرار دیا ہے۔اور دوسری طرف تجد کے لئے جگانے کے واسطے اگر پانی کا چھینٹا بھی مارنا پڑے تو اس کو بھی جائز رکھا ہے۔گویا رسول کریم تهجد کو اس قدر ضروری سمجھتے تھے۔یہ رسول کریم ال کی طرف سے ہے۔پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ رات کا اٹھنا نفس کو سیدھا کر دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صحابہ کو فرماتے کہ خواہ تہجد دو رکعت ہی پڑھو مگر پڑھو ضرور۔پھر حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ رات کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ قریب آجاتا ہے۔اور بہت زیادہ دعائیں قبول کرتا ہے اس لئے تہجد کا پڑھنا بہت ضروری اور بہت فائدہ مند ہے۔اب سوال یہ ہے کہ تجد پڑھنی تو ضرور چاہئے مگر تہجد کے لئے اٹھنے کے تیرہ طریق رات کو اٹھیں کیونکر۔اس کا ایک ادنی طریق میں پہلے بتاتا ہوں اگر چہ اس میں نقصان بھی ہے مگر فائدہ بھی ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آج کل الارم والی گھڑیاں مل سکتی ہیں ان کے ذریعہ انسان جاگ سکتا ہے۔مگر میرا تجربہ ہے کہ یہ کوئی ایسا مفید طریق نہیں ہے۔وجہ یہ کہ چونکہ انسان کو بھروسہ ہو جاتا ہے کہ وہ مجھے وقت پر جگا دے گی اس لئے رات کو اٹھنے کی نیکی کی طرف جو توجہ اور خیال ہونا چاہئے وہ اس کو نہیں ہوتا۔اگر اسے اٹھنے کا خیال ہوتا اور اسی خیال میں ہی اس کی آنکھ لگ جاتی تو گویا وہ ساری رات ہی عبادت کرتا رہتا۔اس کے علاوہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر اٹھنے کو جی نچا ہے تو انسان بجتے بجتے الارم کو بند کر دیتا ہے۔لیکن اگر نیت اور ارادہ سے سوئے گا تو وقت پر ضرور اٹھ کھڑا ہو گا۔پھر ایسے لوگ جو گھڑی کے ذریعہ اٹھتے ہیں وہ اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ نماز میں نیند آتی ہے۔اس کی بھی وجہ یہی ہے کہ وہ گھڑی سے اٹھتے ہیں نہ کہ اپنے طور پر اس لئے یہ طریق کوئی مفید نہیں ہے۔ہاں ابتدائی حالت کے لئے یا کسی خاص ضرورت کے وقت مفید ہو تا ہے۔میرے نزدیک وہ طریق جن سے رات کو اٹھنے سے مدد مل سکتی ہے تیرہ ہیں۔اگر کوئی شخص ں ان پر عمل کرے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے ضرور کامیابی ہوگی۔شروع میں تو ہر کام میں مشکلات ہوتی ہیں مگر آخر کار ضرور ان کے ذریعہ کامیابی ہوگی۔ه مشكورة كتاب البيوع باب التحريص على قيام الليل