انوارالعلوم (جلد 3) — Page 453
۴۵۳۰ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں۔نہیں ، خدا پر ایمان نہیں، محمد مصطفی ﷺ سے تعلق نہیں، قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر عدالتوں میں خدا تعالیٰ کی قسمیں آٹھ آٹھ آنے پر کھاتے ہیں کہ فلاں بات کچی ہے حالانکہ وہ بالکل جھوٹی ہوتی ہے۔پس مسلمانوں کی حالت جو آنکھوں سے دیکھنے سے معلوم ہوتی ہے اس کو تقریر میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔آپ لوگ ان کو دیکھ کر اندازہ لگالیں کہ ان کا کہاں تک اسلام پر عمل ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اسلام مٹ چکا ہے اور کسی نے سچ کہا ہے کہ مسلماناں در گورو مسلمانی در کتاب یعنی مسلمان دین کی طرف سے ایسا مردہ ہو چکے ہیں کہ گویا قبروں میں پڑے ہیں۔اور اسلام قرآن کریم میں بند پڑا ہے۔بہت تھوڑے ہیں جن کا تھوڑا بہت دین سے تعلق ہے۔مگر عام طور پر سب بے دین ہو چکے ہیں۔ان کے امراء خراب ہیں ، ان کے غرباء خراب ہیں، ان کے زمیندار خراب ہیں، ان کے مولوی خراب ہیں۔ان کے مفتی خراب ہیں۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک مولوی نے ایک عورت کا نکاح ایک جگہ پڑھا کر پھر دوسرے دن دوسری جگہ پڑھایا۔حضرت خلیفہ اول نے اس کو کہا مولوی صاحب میں نے آپ کے متعلق ایک بات سنی ہے جس سے مجھے بڑا رنج ہوا ہے۔اس نے پوچھا کیا ؟ آپ نے بتایا کہ میں نے سنا ہے آپ نے ایک عورت کا نکاح دو جگہ پڑھا دیا ہے۔یہ سن کر اس نے کہا مولوی صاحب باتیں بنانی آسان ہیں اور اصل واقعات سے ناواقف رہ کر رائے دینا سہل ہے۔اگر آپ کو وہ حالات معلوم ہوتے جن سے مجبور ہو کر میں نے یہ کام کیا ہے تو کبھی آپ مجھ پر افسو بن نہ کرتے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ مجھے اس کی یہ بات سن کر اس پر رحم آگیا اور میں نے سمجھا کہ اس پر کوئی بڑی ہی مصیبت آئی ہوگی اور شاید جان جانے کا خطرہ ہو گا تب اس نے ایسا کیا ہے۔میں نے کہا اچھا بتائیے تو سہی کیا بات ہوئی۔تو وہ پنجابی زبان میں کہنے لگا۔مولوی صاحب انہاں چڑی جیڈا روپیہ جے کڑ کے رکھ دتا تے میں کی کردا۔یعنی چڑیا کے برابر روپیہ جو انہوں نے نکال کر سامنے رکھ دیا تو میں نکاح نہ پڑھتا تو اور کیا کرتا۔معلوم ہوتا ہے اس کی نگاہ میں روپیہ کی بہت ہی عظمت ہو گی جب ہی تو اس نے چڑیا جتنا کہا ہے۔ورنہ ہم نے کبھی دیکھا نہیں کہ کوئی روپیہ اتنا بڑا ہو۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ مجھے اس کی یہ بات سن کر سخت حیرت ہوئی کہ اس شخص کی دینی حس کس قدر مسخ ہو چکی ہے۔میں نے اس کی حالت کو دیکھ کر کہا واقعہ میں تو مولوی صاحب آپ مجبور تھے اگر نکاح نہ کرتے تو اور کیا کرتے۔