انوارالعلوم (جلد 3) — Page 442
۴۴۲ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں خرچ کرنے کے بغیر اپنے مصرف میں لے آئے۔تو پھر تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کی قیمت کیونکر ملے گی۔تم نے اپنے مال اور اپنی جانیں خدا تعالیٰ کے لئے بیع کر دی ہوئی ہیں۔لیکن جب ان میں سے کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے تمہیں کہا جاتا ہے اور تم نہیں کرتے تو بتلاؤ کہ تم نے اس بیع کو عملا نخ کر دیا یا نہیں اور جب بیچ فسخ ہو گئی تو پھر خریدار تم کو ان کی قیمت کیوں دے گا۔ہرگز نہیں دے گا۔پس اس بات پر خوشی کرنا بے فائدہ اور لغو ہے کہ ہم نے خدا سے بیع کی ہوتی ہے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور اپنی جان اور مال کو بیچ دیا ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ اس کے بدلہ میں انہیں جنت حاصل ہوگی تو وہ سوچیں کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آتی ہے کہ اپنے مال اور جان کا کچھ حصہ میرے لئے میری راہ میں خرچ کرو تو وہ کیوں بڑی خوشی سے اس آواز کا جواب نہیں دیتے۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ان میں سے کوئی خدا تعالی کی آواز پر اپنے مال اور جان میں سے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تو اس کی بیچ مسخ ہو جاتی ہے۔لیکن اگر خرچ کرتا ہے تو پھر جس قدر بھی خوش ہو تھوڑا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا کرنے والوں کو میں بہت بڑے انعام دیتا ہوں۔پس جب خدا تعالٰی اس کے بدلہ میں بڑا انعام دینے کا وعدہ کرتا ہے تو وہ بہت ہی بڑا ہو گا کیونکہ جس چیز کو بڑے بڑا کہیں وہ بہت ہی بڑی ہوتی ہے۔مثلا کسی کو ایک بڑا امیر کہے کہ میں تمہیں بڑا انعام دوں گا تو یہ نہ ہو گا کہ وہ کوئی پانچ دس روپے انعام دے گا بلکہ بہت بڑی رقم دے گا۔لیکن اگر کوئی غریب بڑے انعام کے دینے کا وعدہ کرے تو اس کا ایک روپیہ دینا بھی بڑا انعام سمجھا جائے گا تو چونکہ خدا تعالیٰ بہت بڑا ہے۔اس لئے جسے وہ بڑا فرما تا ہے۔اس کی بڑائی کو انسان سمجھ بھی نہیں سکتا۔چنانچہ اللہ خود فرماتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ مجھے خدا کی طرف سے یہ انعام ملے گا۔لیکن کوئی جان اس کو نہیں جان سکتی۔جو خدا تعالیٰ نے انسان کے دینے کے لئے اس کی نظر سے پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔حتی کہ آنحضرت ا بھی نہیں جانتے تھے کہ آپ کو کیا اور کس قدر بڑا انعام ملے گا۔پس خدا تعالیٰ کے انعام کا کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اندازہ نہیں لگا سکتا۔جب یہ صورت ہے تو جس انسان نے خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنی جان اور مال کا سودا کیا ہے۔وہ جس قدر بھی خوشی کا اظہار کرے تھوڑا ہے اور جس قدر بھی اپنی حالت پر خوش ہو کم ہے مگر جس نے خدا تعالی کے ساتھ عملاً بیع نہیں کی۔اس کے لئے خوشی اور شادمانی کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔بلکہ اس کو تو افسوس اور ماتم کرنا چاہئے کہ خدا تعالٰی نے