انوارالعلوم (جلد 3) — Page 434
انوار العلوم جلد F۔۳ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں رحیمیت کے ماتحت آتا ہے۔اسی کو مضبوط پکڑ لو گے اور کام میں لاؤ گے تو یہ تم کو اٹھا کر میرے قریب کر دے گا۔اور تم صفت رحیمیت کا مزا چکھو گے۔اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ آیت کو اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيْعًا ، یعنی اللہ تعالٰی نے تمہاری طرف اپنی رحیمیت کا رتنا پھینکا ہے اس کو خوب اچھی طرح مضبوط پکڑ لو تا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور اس کی صفت رحیمیت کے انعامات سے حصہ پاؤ۔بسم الله الرحمن الرحیم کے بعد اللہ تعالٰی اس سورۃ میں فرماتا ہے۔الہ میں اللہ بہت جاننے والا ہوں۔یعنی یہ نہیں کہ تم مجھے دھوکا دے لو گے مجھے ہر گز تم دھوکا نہیں دے سکتے کیونکہ دھوکا ناواقف اور جاہل کھایا کرتے ہیں۔مثلاً میں یہاں لیکچر دے رہا ہوں میری نسبت کوئی شخص کسی دوسرے شہر میں جاکر کے کہ میں قادیان کے سالانہ جلسہ پر گیا تھا وہاں میں نے دیکھا کہ وہ قرآن کے خلاف باتیں بیان کر رہا تھا اور آنحضرت ا اللہ کی بنک کرتا تھا۔اس کے اس قول کو ایک ایسا شخص تو شاید مان لے جو اس جلسہ میں موجود نہ تھا کیونکہ اس کو کیا معلوم کہ میں نے جو کچھ بیان کیا قرآن کریم کے مطابق بیان کیا اور رسول کریم اے کی عظمت ظاہر کرتا تھا۔مگر تم میں سے اگر کسی کے سامنے وہ یہ بات کہے تو تم کبھی نہیں مانو گے اور اسے فورا کہہ دو گے کہ تو جھوٹ بک رہا ہے۔کیونکہ تمہیں اس کا علم ہے۔تو جب خدا تعالیٰ نے یہ سنا دیا کہ انے لوگو میں نے تمہیں کچھ سامان اپنی صفت رحمانیت کے ماتحت دیئے ہیں اگر تم ان پر عمل کرو گے تو میری صفت رحیمیت کے ماتحت آجاؤ گے۔تو ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ اگر تم چاہو کہ مجھے دھوکا دے کر انعام حاصل کر لو اور رحمانیت کے ماتحت دئیے ہوئے سامان پر عمل کئے بغیر صرف منہ سے یہ کہہ کر کہ ہم نے ان پر عمل کر لیا ہے ان انعامات کے وارث بننا چاہو جو رحیمیت کے ماتحت حاصل ہوتے ہیں۔تو یہ کبھی نہیں ہو سکے گا کیونکہ میں بہت بڑا جاننے والا ہوں۔جب معمولی طور پر جاننے والا دھوکہ نہیں کھا سکتا تو میں جو بہت بڑا جاننے والا ہوں میں کس طرح دھوکا کھا سکتا ہوں۔پس کسی کا یہ خیال درست نہیں کہ صرف منہ سے کہہ کر انعامات حاصل کر لے گا۔دیکھو ! گور نمنٹ ایک قسم کے کاغذ بنا کر شائع کرتی ہے۔اور ان کی مختلف قیمتیں رکھتی ہے۔کوئی دس روپیہ کا کوئی نہیں کا کوئی سو کا۔اس کاغذ کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس وقت بھی کوئی چاہے اس کو دے کر روپیہ لے سکتا ہے۔اب اگر کوئی شخص اس طرح کرے کہ اپنی