انوارالعلوم (جلد 3) — Page 432
انوار العلوم جلد - ۳ چونه * ۴۳۲ ر جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں بھی ہوتا ہے کہ خطبہ کے ابتداء میں جن کلمات کا پڑھنا مسنون ہے ان کے پڑھتے ہوئے بھی مجھے علم نہیں ہوتا کہ آج میں کیا بیان کروں گا اور کوئی بات ذہن میں نہیں ہوتی۔لیکن اس وقت اللہ خود بخود ہی زبان پر کلمات جاری کر دیتا ہے اور میں خطبہ پڑھ لیتا ہوں۔مگر اس دن ونکہ مجھے خاص طور پر تحریک ہوئی تھی اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ خطبہ کی تیاری کر کے جاؤں۔جب میں مسجد میں جانے کے لئے چھوٹی مسجد کی ان سیڑھیوں پر سے اترا جو ہمارے گھر کے ساتھ پیوستہ ہیں۔تو دیکھا کہ حضرت مولوی صاحب مسجد کو جا رہے ہیں۔آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آج آپ کہاں تھے۔پچھلے دو گھنٹہ کے اندر میں آپ کے بلانے کے لئے کئی آدمی بھیج چکا ہوں۔میں نے کہا حضور میں تو اندرہی تھا۔کہنے لگے مجھے صبح سے تحریک ہو رہی ہے اور میں چاہتا تھا کہ آپ کو بلا کر بتلاؤں کہ اس بات پر خطبہ پڑھنا۔اس کے بعد آپ مجھے خطبہ کا مضمون بتانے لگے اور بتاتے بتاتے مسجد اقصیٰ کے ساتھ جو ہندوؤں کا مکان ہے اس کے پاس آکر کہنے لگے کہ پھر اس کے متعلق کوئی آیت سوچ لو پھر خود ہی کہہ دیا کہ یہی آیت پڑھ لینا کہ و قَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ اِنَ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُودًا، میں حضرت مولوی صاحب کا بہت ادب کرتا تھا مگر اس وقت بے اختیار میری ہنسی نکل گئی اور میں نے کہا یہی آیت میں نے بھی آج سوچی ہوئی تھی۔اسی طرح کا تو ارد اب بھی ہوا ہے۔کل میر حامد شاہ صاحب جب آئے تو انہوں نے مجھے کہا کہ میں جلسہ میں ایک نظم سنانا چاہتا ہوں۔آپ پہلے سن لیں کوئی اس پر اعتراض نہ کرے۔میں نے کہا سنائیے جب وہ سنا چکے تو میں نے کہا کہ میں بھی دعا کرنے کے بعد سوچ رہا تھا کہ کس مضمون پر تقریر کروں تو فورا ہی مضمون میرے ذہن میں آیا جو آپ نے اس نظم میں باندھا ہے۔میں نے ظہر سے پہلے کچھ آیات آپ لوگوں کے سامنے پڑھی تھیں۔ان میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو ہوشیار کیا ہے۔فرماتا ہے۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ - اے انسان تو اس اللہ کا نام لے کر شروع کر جو رحمن اور رحیم ہے۔یعنی تیرا وہ خدا ہے جس نے کچھ سامان انسان کی محنت اور مشقت کے بغیر پیدا کر دیئے ہوئے ہیں۔دیکھو ایک زمیندار زمین میں بیج ڈالتا ہے بڑی محنت اور مشقت کرتا ہے اور پھر چھ ماہ یا کچھ کم و بیش عرصہ کے بعد جاکر غلہ کا تا ہے مگر زمین اور زمین میں جو اگانے کی طاقت ہے اس میں اس کا کچھ دخل اور تصرف نہیں ہے۔زمین کو جو تنا۔اس میں بیچ ڈالنا اور کو ئیں یا نہر سے پانی کھینچ کر دینا تو اس کا کام ہے مگر زمین میں جو پیدا کرنے کی