انوارالعلوم (جلد 3) — Page 385
العلوم جلد ۳۰ ۳۸۵ پیغام صلح کے چند التزامات کی تردید جماعت پر پڑے گا۔اس کے سوا میں مباہلہ نہیں کر سکتا۔قرآن کریم نے رسول کریم" کو ایک جماعت کے مقابلہ میں مباہلہ کرنے کے لئے فرمایا ہے۔کہیں نہیں آیا کہ ہر ایک فرد جو اٹھ کر کے کہ مباہلہ کر لو اس سے مباہلہ کیا جائے۔پس قرآن کریم کی آیت سے بھی یہی استدلال ہوتا ہے کہ مباہلہ تو ایک جماعت کے ساتھ ہونا چاہئے یا کسی ایسے شخص سے جو ایک جماعت کا قائم مقام ہو جیسا کہ خود آنحضرت ﷺ کو اس غرض کے لئے پیش کرنا ظاہر کرتا ہے۔پس محمد یا مین داتوی کو میرے مقابلہ کے لئے پیش کرنا عبث ہے اس نے اگر مباہلہ کرنا ہے تو میری جماعت کے کئی لوگ اس سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہیں وہ ان سے مباہلہ کر لے۔چنانچہ میاں بدر بخش صاحب نے تو اسے چیلنج بھی دیا تھا لیکن اس وقت تک اس نے ان سے مباہلہ نہیں کیا اگر کہو کہ بدر بخش کے مباہلہ کا جماعت پر کیا اثر ہو گا تو میں کہتا ہوں کہ محمد یا مین کے مباہلہ کا جماعت پر کیا اثر ہو گا۔پس جبکہ تمہاری طرف سے ایسا شخص پیش ہے جسکے مباہلہ کا اثر تمہاری جماعت پر کچھ نہیں تو ہماری طرف سے بھی اگر کوئی ایسا ہی آدمی آگے آتا ہے تو تمہیں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ہاں ہو سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب بمعہ ممبران اشاعت اسلام انجمن کے ایک دستخطی تحریر شائع کر دیں کہ محمد یا مین ہماری طرف سے مباہلہ کرنے کا مجاز ہے۔اگر مباہلہ کے نتیجہ میں یہ ہلاک ہو جائے اور عذاب الہی میں گرفتار ہو جائے تو ہم سب لوگ اس کو اپنی شکست خیال کریں گے اور آئندہ توبہ کر کے تمہاری بیعت میں شامل ہو جائیں گے۔تو میں بھی اپنی جماعت کے کسی آدمی کی نسبت ایسی ہی تحریر شائع کر دوں گا اور لکھ دوں گا کہ اگر اس شخص پر بعد مباہلہ عذاب الہی نازل ہو اور یہ ہلاک ہو جائے تو میں خلافت سے علیحدہ ہو جاؤں گا اور اپنے عقائد سے توبہ کرلوں گا۔اور میں نے جو مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ دوسرے ممبران انجمن کی شمولیت کی شرط لگائی ہے تو صرف اس لئے کہ ان کی جماعت انہیں واجب الاطاعت امام نہیں مانتی۔بلکہ انجمن کو اصل حاکم مانتی ہے۔میری جماعت مجھے واجب الاطاعت امام مانتی ہے۔اور اگر تم لوگ اس بات کے لئے آمادہ نہیں تو پھر مولوی محمد علی صاحب کو میرے مقابلہ میں لاؤ۔میں ان سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں اور اگر کہو کہ وہ تو دو مسلمانوں میں مباہلہ کو جائز نہیں سمجھتے تو میں کہتا ہوں کہ میں نے بھی تو ان سے مباہلہ کرنے کی رضامندی اسی خیال کے ماتحت ظاہر کی تھی کہ وہ ہم کو کافر کہہ کر خود کا فر ہو گئے ہیں کیونکہ میں نے جہاں تک ان کی تحریرات کو سمجھا ہے میں ان سے یہی مطلب سمجھا ہوں کہ وہ ہمیں کافر سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے