انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 372

انوار العلوم جلد ۳۷۲ سیرت مسیح موعود رہے ہیں اور بہت سے لوگوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے ہیں۔آپ لیکچر گاہ میں اندر تشریف لے گئے اور لیکچر شروع کیا لیکن مولوی صاحبان کو اعتراض کا کوئی موقعہ نہ ملا جس لوگوں کو بھڑکا ئیں۔پندرہ بیس منٹ آپ کی تقریر ہو چکی تھی کہ ایک شخص نے آپ کے آگے چائے کی پیالی پیش کی کیونکہ آپ کے حلق میں تکلیف تھی۔اور ایسے وقت میں اگر تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی سیال چیز استعمال کی جائے تو آرام رہتا ہے۔آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ رہنے دو لیکن اس نے آپ کی تکلیف کے خیال سے پیش کر ہی دی اس پر آپ نے بھی اس میں سے ایک گھونٹ پی لیا۔لیکن وہ مہینہ روزوں کا تھا مولویوں نے شور مچا دیا کہ یہ شخص مسلمان نہیں کیونکہ رمضان شریف میں روزہ نہیں رکھتا۔آپ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیمار یا مسافر روزہ نہ رکھے۔بلکہ جب شفا ہو یا سفر سے واپس آئے تب روزہ رکھے اور میں تو بیمار بھی ہوں اور مسافر بھی۔لیکن جوش میں بھرے ہوئے لوگ کب رکھتے ہیں شور بڑھتا گیا اور باوجود پولیس کی کوشش کے فرو نہ ہو سکا۔آخر مصلحاً آپ بیٹھ گئے اور ایک شخص کو نظم پڑھنے کے لئے کھڑا کر دیا گیا۔اس کے نظم پڑھنے پر لوگ خاموش ہو گئے تب پھر آپ کھڑے ہوئے تو پھر مولویوں نے شور مچایا اور جب آپ نے لیکچر جاری رکھا تو فساد پر آمادہ ہو گئے اور سٹیج پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھے۔پولیس نے روکنے کی کوشش کی لیکن ہزاروں آدمیوں کی رو ان کے روکے نہ رکتی تھی۔اور ایسا معلوم ہو تا تھا کہ سمندر کی ایک لہر ہے جو آگے ہی بڑھتی چلی آتی ہے۔جب پولیس سے اس کا سنبھالنا مشکل ہو گیا تب آپ نے لیکچر چھوڑ دیا۔لیکن پھر بھی لوگوں کا جوش ٹھنڈا نہ ہوا۔اور انہوں نے سٹیج پر چڑھ کر حملہ آور ہونے کی کوشش جاری رکھی اس پر پولیس انسپکٹر نے آپ سے عرض کی کہ آپ اندر کے کمرہ میں تشریف لے چلیں اور فوراً سپاہی دوڑائے کہ بند گاڑی لے آئیں۔پولیس لوگوں کو اس کمرہ میں آنے سے روکتی رہی اور دوسرے دروازہ کے سامنے گاڑی لا کر کھڑی کر دی گئی آپ اس میں سوار ہونے کے لئے تشریف لے چلے۔آپ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ آپ گاڑی میں سوار ہو کر چلے ہیں۔اس پر جو لوگ لیکچر ہال میں باہر کھڑے تھے وہ حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھے اور ایک شخص نے بڑے زور سے ایک بہت موٹا اور مضبوط سوٹا آپ کو مارا۔ایک مخلص مرید پاس کھڑا تھا وہ جھٹ آپ کو بچانے کے لئے آپ کے اور حملہ کرنے والے کے درمیان میں آگیا چونکہ گاڑی کا دروازہ کھلا تھا۔