انوارالعلوم (جلد 3) — Page 371
دم جلد ۳ سیرت مسیح موعود جب لیکچر ختم ہو کر گھر کو واپس آنے لگے تو پھر بعض لوگوں نے پتھر مارنے کا ارادہ کیا لیکن پولیس نے اس مفسدہ کو بھی روکا۔لیکچر کے بعد دوسرے دن آپ واپس تشریف لے آئے اور اس موقعہ پر بھی پولیس کے انتظام کی وجہ سے کوئی شرارت نہ ہو سکی۔جب لوگوں نے دیکھا کہ ہمیں دکھ دینے کا کوئی موقعہ نہیں ملا۔تو بعض لوگ شہر سے کچھ دور باہر جا کر ریل کی سڑک کے پاس کھڑے ہو گئے اور چلتی ہوئی ٹرین پر پتھر پھینکے لیکن اس کا نتیجہ سوائے کچھ شیشے ٹوٹ جانے کے اور کیا ہو سکتا تھا ؟ ۱۱ - اکتوبر ۱۹۰۵ء کو مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات اور سفرد بلی کے حالات آپ کے نہایت مخلص مرید مولوی عبدالکریم صاحب جو مختلف موقعوں پر آپ کے لیکچر سنایا کرتے تھے ایک لمبی بیماری کے بعد فوت ہوئے۔اور آپ نے قادیان میں ایک عربی مدرسہ کھولنے کا ارشاد فرمایا جس میں دین اسلام سے واقف علماء پیدا کئے جائیں تاکہ فوت ہونے والے علماء کی جگہ خالی نہ رہے۔مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات سے چند روز بعد دہلی تشریف لے گئے اور وہاں قریب پندرہ دن رہے۔اس وقت دہلی کو پندرہ سال پہلے کی دہلی نہ تھی جس نے دیوانہ وار شور مچایا تھا۔لیکن پھر بھی آپ کے جانے پر خوب شور ہو تا رہا اس پندرہ دن کے عرصہ میں آپ نے دہلی میں کوئی پبلک لیکچر نہ دیا۔لیکن گھر پر قریباً روزانہ لیکچر ہوتے رہے جن میں جگہ کی تنگی کے سبب دو ڈھائی سو سے زیادہ آدمی ایک وقت میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔ایک دو دن لوگوں نے شور بھی کیا اور ایک دن حملہ کر کے گھر پر چڑھ جانے کا بھی ارادہ کیا۔لیکن پھر بھی پہلے سفر کی نسبت بہت فرق تھا۔اس سفر سے واپسی پر لدھیانہ کی جماعت نے دو دن کے لئے آپ کو لدھیانہ میں ٹھرایا اور آپ کا ایک پبلک لیکچر نہایت خیر و خوبی سے ہوا۔وہاں امرتسر کی جماعت کا ایک وفد پہنچا کہ آپ ایک دو روز امرتسر بھی ضرور قیام فرما ئیں جسے حضرت نے منظور فرمایا۔اور لدھیانہ سے واپسی پر امرتسر میں اتر گئے۔وہاں بھی آپ کے ایک عام لیکچر کی تجویز ہوئی۔امرتسر سلسلہ احمدیہ کے مخالفین سے پر ہے اور مولویوں کا وہاں بہت زور ہے۔ان کے اکسانے سے عوام الناس بہت شور کرتے رہے جس دن آپ کا لیکچر تھا اس روز مخالفین نے فیصلہ کر لیا کہ جس طرح ہو لیکچر نہ ہونے دیں۔چنانچہ آپ لیکچر ہال میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ دروازہ پر مولوی بڑے بڑے جسے پہنے ہوئے لمبے لمبے ہاتھ مار کر آپ کے خلاف وعظ کر