انوارالعلوم (جلد 3) — Page 366
انوار العلوم جلد ۳۰ سیرت مسیح موعود جائے گو اس پیش گوئی کے حقیقی معنی یہی تھے کہ مسیح موعود کھلے کھلے دلائل اور براہین کے ساتھ آئے گا۔اور تمام دنیا پر اس کا جلال ظاہر ہو گا اور اس کو بہت بڑی کامیابی ہو گی کیونکہ علم تعبیر الرویا میں منارے سے مراد وہ دلائل ہیں جن کا انسان انکار نہ کر سکے۔اور بلندی پر ہونے کے معنی ایسی شان حاصل کرنے کے ہیں جو کسی کی نظر سے پوشیدہ نہ رہے۔اور مشرق کی طرف آنے سے مراد ایسی ترقی ہوتی ہے جسے کوئی نہ روک سکے۔۱۹۰۲ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود پر ایک شخص کرم دین نے ازالہ حیثیت عرفی کا ن مقدمہ کیا اور جہلم کے مقام پر عدالت میں حاضر ہونے کے لئے آپ کے نام سمن جاری ہوا۔چنانچہ آپ جنوری ۱۹۰۲ء میں وہاں تشریف لے گئے۔یہ سفر آپ کی کامیابی کے شروع ہونے کا پہلا نشان تھا۔کہ گو آپ ایک فوجداری مقدمہ کی جواب دہی کے لئے جا رہے تھے لیکن پھر بھی لوگوں کے ہجوم کا یہ حال تھا کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں ہو سکتا۔جس وقت آپ جہلم کے اسٹیشن پر اترے ہیں اس وقت، وہاں اس قدر انبوہ کثیر تھا کہ پلیٹ فارم پر کھڑے ہونے کی جگہ نہ رہی تھی بلکہ سٹیشن کے باہر بھی دو رویہ سڑکوں پر لوگوں کی اتنی بھیٹر تھی کہ گاڑی کا گذرنا مشکل ہو گیا تھا۔حتی کہ افسران ضلع کو انتظام کے لئے خاص اہتمام کرنا پڑا اور غلام حیدر صاحب تحصیلدار اس سپیشل ڈیوٹی پر لگائے گئے۔آپ حضرت صاحب کے ساتھ نہایت مشکل سے راستہ کراتے ہوئے گاڑی کو لے گئے کیونکہ شہر تک برابر ہجوم خلائق کے سبب رستہ نہ ملتان تھا۔اہل شہر کے علاوہ ہزاروں آدمی دیہات سے بھی آپ کی زیارت کے لئے آئے تھے۔قریباً ایک ہزار آدمی۔تے اس جگہ بیعت کی اور جب آپ عدالت میں حاضر ہونے کے لئے گئے تو اس قدر مخلوق کارروائی مقدمہ سننے کے لئے موجود تھی کہ عدالت کو انتظام کرنا مشکل ہو گیا۔دور میدان تک لوگ پھیلے ہوئے تھے۔پہلی ہی پیشی میں آپ بری کئے گئے اور مع الخیر واپس تشریف لے آئے۔۱۹۰۳ ء سے آپ کی ترقی جماعت کی ترقی اور کرم دین والے مقدمہ کا طول پکڑنا حیرت انگیز طریق سے شروع ہو گئی اور بعض دفعہ ایک ایک دن میں پانچ پانچ سو آدمی بیعت کے خطوط لکھتے تھے اور آپ کے پیرو اپنی تعداد میں ہزاروں لاکھوں تک پہنچ گئے۔ہر قسم کے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور یہ سلسلہ بڑے زور سے پھیلنا شروع ہو گیا اور پنجاب سے نکل کر دوسرے