انوارالعلوم (جلد 3) — Page 343
م بلید - ۳۴۳ سیرت مسیح موعود چڑھتے تھے۔اور یہ عادت پیادہ چلنے کی آپ کو آخر عمر تک تھی۔ستر سال سے متجاوز عمر میں جب کہ بعض سخت بیماریاں آپ کو لاحق تھیں اکثر روزانہ ہوا خوری کے لئے جاتے تھے اور چار پانچ میل روزانہ پھر آتے۔اور بعض اوقات سات میل پیدل پھر لیتے تھے۔اور بڑھاپے سے پہلے کا حال آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات صبح کی نماز سے پہلے اٹھ کر (نماز کا وقت سورج نکلنے سے سوا گھنٹہ پہلے ہوتا ہے) سیر کے لئے چل پڑتے تھے۔اور وڈالہ تک پہنچ کر (جو) بٹالہ سڑک پر قادیان سے قریبا ساڑھے پانچ میل پر ایک گاؤں ہے) صبح کی نماز کا وقت ہو تا تھا۔آپ کی عمر تقریبا چالیس سال کی تھی۔جب کہ ۱۸۷۶ء میں آپ کے مکالمہ اللہ کا آغاز والد صاحب یک دفعہ بیمار ہوئے اور گو ان کی بیماری چنداں خوفناک نہ تھی لیکن حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالٰی نے بذریعہ الہام بتایا۔کہ وَ السَّمَاءِ وَالطَّارِقِ (تذکرہ صفحہ ۲۴ ایڈیشن چهارم یعنی رات کے آنے والے کی قسم تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہے رات کو آنے والا۔اور ساتھ ہی تقسیم ہوئی کہ اس الہام میں آپ کے والد صاحب کی وفات کی خبر دی گئی ہے جو کہ بعد مغرب واقعہ ہوگی۔گو حضرت صاحب کو اس سے پہلے ایک مدت سے رویائے صالحہ ہو رہے تھے جو اپنے وقت پر نہایت صفائی سے پورے ہوتے تھے اور جن کے گواہ ہندو اور سکھ بھی تھے۔اور اب تک بعض ان میں سے موجود ہیں۔لیکن الہامات میں سے یہ پہلا الہام ہے جو آپ کو ہوا اور اس الہام کے ذریعہ سے گویا خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کے ساتھ آپ کو بتایا کہ تیرا دنیادی باپ فوت ہوتا ہے لیکن آج سے میں تیرا آسمانی باپ ہو تا ہوں۔غرض پہلا الہام جو حضرت مسیح موعود کو ہوا۔وہ یہی تھا جس میں آپ کو آپ کے والد صاحب کی وفات کی خبردی گئی تھی۔اس خبر پر بالطبع آپ کے دل میں رنج پیدا ہونا تھا۔چنانچہ آپ کو اس خبر سے صدمہ پیدا ہوا۔اور دل میں خیال گذرا کہ اب ہمارے گزارے کی کیا صورت ہو گی۔جس پر دوسری دفعہ پھر الہام ہوا اور آپ کو اللہ تعالی نے ہر طرح سے تسلی دی۔اس واقعہ کو میں اس جگہ خود حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔”جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد آپ کے والد کی وفات اور الہی تصرفات صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے۔تو بموجب مقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا۔اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ انہی کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طرف۔