انوارالعلوم (جلد 3) — Page 302
۳۰۲ نصائح مبلغین بڑی رکاوٹ ہے۔بعض لوگ اس سلسلے میں اس لئے نہیں داخل ہوتے کہ اس نے وفاداری کی تعلیم دی ہے۔پس تم سیاست میں پڑنے سے لوگوں کو روکو۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی تعلیم روح تقویٰ کے حصول کے ذرائع رحضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی کی تقریر سے لئے ہوئے نوٹوں کی بناء پر تیار کیا گیا۔اکمل) اللہ تعالٰی سورہ مائدہ میں فرماتا ہے۔وَاتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوا ، والله تقویٰ کی تعریف لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الفيسقِينَ ، الامر : ) اللہ کا تقوی اختیار کرو۔(المائدہ: b اچھی طرح اس کے احکام کی فرمانبرداری کرو۔اور اللہ نا فرمان لوگوں کو کامیاب نہیں کرتا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ تقولٰی فرمانبرداری کا نام ہے۔اور فرمانبرداری محبت کی وجہ سے کی جاتی ہے یا خوف کی فرمانبرداری کس طرح پیدا ہو وجہ سے۔محبت حسن و احسان کے مطالعہ سے پیدا ہوگی اور خوف جلال کے مطالعہ سے۔چونکہ انسانی فطرت میں بھی دو باتیں ہیں اس لئے سورہ فاتحہ میں ان دونوں سے کام لیا گیا ہے۔فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ ، یہ تمام احسان یاد دلا کر کہ ایک پہلو سے یہی حسن بھی ہے۔لوگوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف متوجہ کیا ہے۔چونکہ بعض طبائع بجز خوف دلانے کے فرمانبرداری نہیں کرتیں۔اس لئے ان کے لئے فرمایا۔مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ یعنی جزاء و سزا کا بھی میں مالک ہوں۔الغرض فرمانبرداری کامل محبت یا کامل خوف پر ہے۔اور اس تقویٰ انبیاء کی بعثت سے کے لئے اللہ نے دو سامان مقرر کئے ہیں ایک آسمانی ایک زمینی۔آسمانی سامان جس سے لوگوں میں فرمانبرداری یا تقویٰ پیدا ہو وہ انبیاء کی بعثت ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ تقویٰ کی روح دنیا سے گم ہو چلی ہے تو انہوں نے اپنے مولیٰ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کی۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أيتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ، إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) البقرة (۱۳۰) اسے ہمارے رب ان میں ایک رسول انہی میں سے مبعوث کر۔جو ان پر تیری آیتیں پڑھ