انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 295

۲۹۵ نصائح مبلغین لَوْلَا يَنهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَاكْلِهِمُ السُّحْتَ ، لَبِئْسَ مَا كَانُوا يصْنَعُونَ (المائده : ۱۴) ترجمہ : عارف (لوگ) اور علماء انہیں ان کے جھوٹ بولنے اور ان کے حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ جو کچھ وہ کرتے ہیں وہ یقیناً بہت برا ہے۔کیوں انہوں نے نہ روکا۔تو یہ فرض ہے۔ہمیئی کے مولویوں کی طرح نہ ہو وہی لیکچر ہونا چاہئے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو۔یہی بات ہمارے اور لاہوریوں کے درمیان جھگڑے کی ہے۔وہ مرض بتانا نہیں چاہتے اور ہم مرض بتانا چاہتے ہیں۔ان باتوں پر لیکچر دینے کی ضرورت نہیں جو اچھی باتیں ان میں ہیں یا جو بدیاں ان میں نہیں ہیں۔اگر وہ لڑکیوں کو حصہ نہ دیں تو اس پر لیکچر دو۔روزے نہ رکھیں تو اس پر دو۔نماز نہ پڑھیں تو اس پر دو۔زکوۃ نہ دیں تو اس پر دو۔صدقہ و خیرات نہ دیں تو اس پر دو۔لیکن جو باتیں ان میں ہیں ان پر نہ دو۔غریبوں پر اگر وہ ظلم کرتے ہیں، شریفوں کا ادب نہیں کرتے ، چوری کرتے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ان پر لیکچر دو۔لیکن چوری ان میں نہیں ہے اس پر نہ دو۔مرضیں تلاش کرو اور پھر دوا دو۔کبھی کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہ ہو۔میں اپنا طریقہ بتاتا ہوں میں نے جب کبھی کسی کی مرض کے متعلق بیان کرنا ہو تو میں دو تین مہینے کا عرصہ درمیان میں ڈال لیتا ہوں۔تاکہ وہ بات لوگوں کے دلوں سے بھول جائے۔تو اتنا عرصہ کر دینا چاہئے۔اگر موقعہ ملے تو اس شخص کو جس میں یہ مرض ہے علیحدہ تخلیہ میں نرم الفاظ کے ساتھ سمجھاؤ۔ایسے الفاظ میں کہ وہ چڑ نہ جائے۔ہمدردی کے رنگ میں وعظ کرو۔ایک طرف اتنی ہمدردی دکھاؤ کہ غریبوں کے خدمتگار تم ہی معلوم ہو دوسری طرف اتنا بڑا ہو کہ تمہیں دنیا سے کوئی تعلق نہ ہو۔دو فریق بننے نہ دو۔دو شخصوں کے جھگڑے کے متعلق کسی خاص کے ساتھ تمہاری طرف داری نہ ہو۔کوئی مرض پاؤ تو اس کی دوا فورا دو۔کسی موقعہ پر چشم پوشی کر کے مرض کو بڑھنے نہ دو۔ہاں اگر اصلاح چشم پوشی ہی میں ہو تو کچھ حرج نہیں۔لوگوں کو جو تبلیغ کرو اس میں ایک جوش ہونا چاہئے۔جب تک تبلیغ میں ایک جوش نہ ہو وہ کام ہی نہیں کر سکتا۔سننے والے پر اثر ڈالو کہ جو تم کہہ رہے ہو اس کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہو۔اور یہ جو کچھ تم سنا رہے ہو یہ تمہیں ورثے کے طور پر نہیں ملا بلکہ تم نے خود اس کو پیدا کیا ہے۔تم نے خود اس پر غور کیا ہے۔(۲) ٹھٹھے باز نہیں ہونا چاہئے۔لوگوں کے دلوں سے ادب اور رعب جاتا رہتا ہے۔