انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 289

وم جلد ۳۰ بسم الله الرحمن الرحیم ٢٨٩ محمده و فصلی علی رسولہ الکریم نصائح مبلغین نصائح مبلغین جن کے بالاستیعاب و بامعان نظر پڑھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ فی الواقعہ یہ نصیحتیں کرنے والا خلافت مسیح موعود کی مسند پر بیٹھنے کا اہل تھا۔حضور نے بہت تفصیل سے تقریر فرمائی تھی۔لکھنے والا نو مشق تھا اور نظر ثانی بھی نہیں کرائی جاسکی۔تاہم مجھے اطمینان ہے کہ بہت ساحصہ حضور کی تقریر کے مفہوم کا اس میں آگیا ہے۔ناظرین پڑھ کر اس پر عمل کریں کہ احمدی جماعت کا ہر فرد دراصل ایک مبلغ ہے۔(نوٹ از مرتب کنندہ) سب سے پہلے مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تبلیغ میں تزکیہ نفس سے غافل نہ ہو تزکیہ نفس کرے۔صحابہ کی نسبت تاریخوں میں آتا ہے کہ جنگ یرموک میں دس لاکھ عیسائیوں کے مقابل میں ساٹھ ہزار صحابہ تھے۔قیصر کا داماد اس فوج کا کمانڈر تھا اس نے جاسوس کو بھیجا کہ مسلمانوں کا جاکر حال دریافت کرے۔جاسوس نے آکر بیان کیا مسلمانوں پر کوئی فتح نہیں پا سکتا۔ہمارے سپاہی لڑکے آتے ہیں اور کمریں کھول کر ایسے سوتے ہیں کہ انہیں پھر ہوش بھی نہیں رہتی۔لیکن مسلمان باوجو د دن کو لڑنے کے رات کو گھنٹوں کھڑے رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں۔خدا کے حضور کرتے ہیں۔یہ وہ بات تھی جس سے صحابہ نے دین کو قائم کیا۔باوجود اپنے تھکے ماندے ہونے کے بھی اپنے نفس کا خیال رکھا۔بعض دفعہ انسان اپنے تبلیغ کے فرض میں ایسا منہمک ہو جاتا ہے کہ پھر اسے نمازوں کا بھی خیال نہیں رہتا۔ایسا نہیں ہونا چاہئے ہر ایک چیز اپنے اپنے موقعہ اور محل کے مطابق اور اعتدال کے طور پر ہی ٹھیک ہوا کرتی ہے۔لوگوں کی بھلائی کرتے ہوئے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ انسان اپنی بھلائی سے بے فکر ہو جائے۔پس ضروری ہے کہ وہ اپنا تزکیہ نفس کرے۔