انوارالعلوم (جلد 3) — Page 255
العلوم جلد ۳۰ ۲۵۵ اسلام اور دیگر مذاہب ہے اور ان کے کرنے والوں کو خدائے تعالی کا برگزیدہ اور پیارا انسان سمجھا جاتا ہے۔لیکن در حقیقت یہ ایک ظلم ہے جو یہ لوگ اپنی جان سے کرتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالی کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں جبکہ خدائے تعالٰی نے ہاتھ پکڑنے کیلئے اور زبان بولنے کیلئے اور آنکھیں نے کیلئے اور پاؤں چلنے کیلئے دیئے ہیں اور یہ اعضاء اس کے انعامات میں سے ہیں۔تو کیسا قابل ملامت ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کو ضائع کر دیتا ہے اور ان کی قدر نہیں کرتا۔ایسا شخص تو اللہ تعالٰی کی بہتک کرتا ہے کیونکہ اس کی دی ہوئی نعمت کو حقارت سے پھینک دیتا ہے کہ میں نہیں لیتا اور خود اپنے نفس پر بھی ظلم ہے کہ اسے بے وجہ اور بے فائدہ ایسی تکالیف دی جاتی ہیں کہ جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اسی طرح جو لوگ ساری عمر بغیر شادی کے رہنے کا عہد کرتے ہیں یا ان طاقتوں کو ضائع کر دیتے جن سے نسل انسانی چلتی ہے وہ اپنے نفوس پر ظلم کرتے ہیں کہ انہیں ان پاک جذبات سے روکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر رکھے تھے ایسے فعل کبھی خدائے تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہو سکتے کیونکہ جو اس کی نعمت کو رد کرتا ہے وہ کبھی اس کا پسندیدہ نہیں ہوتا۔اسی طرح جو لوگ طیبات کو چھوڑ دیتے ہیں یا نجاستوں کا استعمال کرتے ہیں وہ بھی اپنے نفس پر ایسا ظلم کرتے ہیں کہ جس کی کوئی انتہاء نہیں اور یہ سب لوگ اپنے آپ کو ایسے حالات میں ڈال دیتے ہیں کہ جن سے اکثر بجائے شیطان سے بچنے کے وہ شیطان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں کیونکہ جو شخص اپنے جسم کو سخت صدمہ پہنچاتا ہے۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کی روح کو بھی اس سے صدمہ پہنچ جائے گا اور یا تو اس کے دماغ میں بلادت پیدا ہو جائے گی کہ وہ باریک مسائل کو سمجھ ہی نہیں سکے گا اور یا جنون کا کوئی شعبہ اس کے اندر پیدا ہو جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان انعامات سے قطعی محروم ہو جائے گا جو خدائے تعالی کی عبادت کرنے والوں کے لئے مقرر ہیں۔چنانچہ خدائے تعالیٰ کے جس قدر برگزیدے دنیا میں گزرے ہیں ان کی نسبت صحیح تواریخ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ ان میں سے ایک نے بھی اپنی طاقتوں کو اس طرح ضائع کر دیا ہو۔ہاں ممکن ہے کہ انہوں نے بعض لوگوں کے اندر جذبات کا سخت جوش دیکھ کر ان کے جوش کے کم کرنے کی وقتی ضرورت دیکھ کر ان کو بعض ایسی سخت ریاضتیں کرنے کا حکم دے دیا ہو؟ لیکن ایک عالمگیر مذہب میں کسی ایسی تعلیم کا گزر نہیں ہو سکتا کیونکہ اس تعلیم کا پھیلانا نوع انسان کو ان تمام ترقیات سے محروم کر دینا ہے جو وہ ان علوم کے ذریعہ سے کر رہی ہے جو خدائے تعالیٰ نے اسے عنایت فرمائے ہیں۔ذرا