انوارالعلوم (جلد 3) — Page 219
علوم جلد - - ۲۱۹ انوار خلافت کہ وہ نہیں آئیں گے۔اسی طرح حضرت مسیح کی آمد کے متعلق انجیل میں جو بشارتیں تھیں وہ پوری ہو گئی ہیں۔اسی طرح آنحضرت ﷺ کے دوبارہ آنے کے متعلق جو بشارتیں تھیں ان کی آسمان اور زمین گواہی دے رہے ہیں۔پس ان انبیاء کا آنا ضروری ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اصل تو واپس نہیں آسکتے اور نہ ہی ان کی روحیں کسی بدن میں داخل ہو کر آسکتی ہیں اس لئے یہی ماننا پڑتا ہے کہ ان کی صفات اور خصوصیات کا حامل کوئی اور آئے گا اور وہ ایک نہی شخص میں ہوں گی جو ان کی صفات رکھنے کی وجہ سے انہی کے نام بھی پائے گا۔اب میں نے یہ تو بتا دیا ہے کہ حضرت مسیح ایک ضمنی اعتراض اور اس کا جواب موعود کے کرشن بدھ ، مسیح اور محمد نام ہونے سے یہ مراد ہے کہ آپ میں ان کی خوبیاں اور صفات پائی جاتی ہیں۔لیکن اس پر ایک ضمنی اعتراض پڑتا ہے اور وہ یہ کہ اگر یہ درست ہے تو اس طرح آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے کیونکہ آپ تمام انبیاء کے جامع ہیں اور تمام کی صفات اپنے اندر رکھتے ہیں۔مگر مرزا صاحب دعوی کرتے ہیں کہ میں محمد بھی ہوں جس سے ماننا پڑتا ہے کہ آپ میں دو ہرے کمالات ہیں۔اس لئے آنحضرت ﷺ سے بڑے ہیں کیونکہ رسول اللہ تمام پچھلے انبیاء کے قائم مقام تھے مگر مرزا صاحب آپ کے بھی قائم مقام بننے کا دعوی کرتے ہیں۔لیکن یہ ایک دھوکا لگا ہے جو کم سمجھی کا نتیجہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت ا تمام انبیاء کی تفصیل ہیں اور حضرت مرزا صاحب آپ کے بروز اور مثیل۔لوگ تو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے صرف چار نبیوں کے نام اپنے نام قرار دیتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ تمام انبیاء کے نام رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ میں عیسی ہوں۔ہارون ہوں۔موسی ہوں۔ابراہیم ہوں۔داؤد ہوں۔یہ تو اپنے نام لے دیئے ہیں لیکن آپ کے نام ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے نام تھے۔اور پھر آپ آنحضرت ﷺ کے غلام ہی تھے۔کیونکہ آپ نے سب کچھ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ہی حاصل کیا تھا۔آپ کا نام ابراہیم ، موسی ، عیسی ، ہارون وغیرہ اس لئے تھا کہ آپ ان کی تفصیل تھے۔اور محمد اس لئے تھا کہ آپ ان تمام انبیاء کے جامع تھے۔پس بلحاظ الگ الگ صفات کے آپ ہر ایک نبی کا نام پانے والے تھے مگر مجموعی لحاظ سے آپ محمد تھے۔اور چونکہ آپ نے یہ تمام کمالات محمد کی اطاعت میں پائے تھے اس لئے آپ ان کے غلام بھی تھے۔