انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 191

انوار العلوم جلد ۳۰ r۔191 آئے ہوئے لوگ حضرت علی سے بھی واقف نہ تھے۔الغرض حضرت علی کے پاس سے ناامید ہو کر یہ لوگ حضرت عثمان کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے یہ خط لکھا آپ نے فرمایا کہ شریعت اسلام کے مطابق دو طریق ہیں یا تو یہ کہ دو گواہ تم پیش کرو کہ یہ کام میرا ہے۔یا یہ کہ میں خدا تعالی کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ تحریر ہرگز میری نہیں اور نہ میں نے کسی سے لکھوائی اور نہ مجھے اس کا علم ہے اور تم جانتے ہو کہ لوگ جھوٹے خط لکھ لیتے ہیں اور مہروں کی بھی نکلیں بنا لیتے ہیں مگر اس بات پر بھی ان لوگوں نے شرارت نہ چھوڑی اور اپنی ضد پر قائم رہے۔اس واقعہ سے بھی ہمیں یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ مدینہ کے لوگ ان کے ساتھ شامل نہ تھے کیونکہ اگر مدینہ میں سے بعض لوگ ان کی شرارت میں حصہ دار ہوتے تو ان کے لئے دو جھوٹے گواہ بنا لینے کچھ مشکل نہ تھے لیکن ان کا اس بات سے عاجز آ جانا بتاتا ہے کہ مدینہ میں سے دو آدمی بھی ان کے ساتھ نہ تھے (سوائے ان تین آدمیوں کے جن کا ذکر پہلے کر چکا ہوں مگر ان میں سے محمد بن ابی بکر تو ان لوگوں کے ساتھ تھے۔مدینہ میں نہ تھے اور صرف عمار اور محمد بن ابی حذیفہ مدینہ میں تھے لیکن یہ دونوں بھی نیک آدمی تھے اور صرف ان کی فریب دینے والی باتوں کے دھوکے میں آئے ہوئے تھے) اور یہ لوگ اپنے میں سے گواہ نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ یہ لوگ مدینہ میں موجود نہ تھے ان کی گواہی قابل قبول نہ تھی۔کو ہر طرح ان لوگوں کو ذلت پہنچی لیکن انہوں نے اپنی کارروائی کو ترک نہ کیا اور برابر مدینہ کا محاصرہ کئے پڑے رہے۔شروع شروع میں تو حضرت عثمان کو بھی اور باقی اہل مدینہ کو بھی مسجد میں نماز کے لئے آنے کی اجازت انہوں نے دے دی تھی۔اور حضرت عثمان " بڑی دلیری سے ان لوگوں میں آکر نماز پڑھاتے۔لیکن باقی اوقات میں ان لوگوں کی جماعتیں مدینہ کی گلیوں میں پھرتی رہتیں اور اہل مدینہ کو آپس میں کہیں جمع ہونے نہ دیتیں تاکہ وہ ان پر حملہ آور نہ ہوں۔جب جمعہ کا دن آیا تو حضرت عثمان جمعہ کی نماز کے لئے مسجد نبوی میں تشریف لائے اور منبر پر چڑھ کر فرمایا کہ اے دشمنان اسلام مدینہ کے لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے تمہاری نسبت پیشگوئی کی ہے اور تم پر لعنت کی ہے پس تم نیکیاں کر کے اپنی بدیوں کو مٹاؤ۔کیونکہ بدیوں کو سوائے نیکیوں کے اور کوئی چیز نہیں مٹاتی۔اس پر محمد بن سلمہ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں لیکن حکیم بن جبلہ (وہی چور