انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 189

دم جلد ۱۸۹ انوار خلافت باغی سب طرف سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے یہ ظاہر کرنا شروع کیا کہ ان کی اصل غرض تو بعض عاملوں کا تبدیل کروانا ہے۔ان کو تبدیل کر دیا جائے تو ان کو پھر کوئی شکایت نہ رہے گی۔چنانچہ حضرت عثمان نے ان کو اپنی شکایت پیش کرنے کی اجازت دی اور انہوں نے بعض گورنروں کے بدلنے کی درخواست کی۔حضرت عثمان نے ان کی درخواست قبول کی اور ان کے کہنے کے مطابق محمد بن ابی بکر کو مصر کا گورنر مقرر کر دیا اور حکم جاری کر دیا کہ مصر کا گورنر اپنا کام محمد بن ابی بکر کے سپرد کر دے۔اسی طرح بعض اور مطالبات انہوں نے کئے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ بیت المال میں سے سوائے صحابہ کے دوسرے اہل مدینہ کو ہرگز کوئی روپیہ نہ دیا جایا کرے۔یہ خالی بیٹھے کیوں فائدہ اٹھاتے ہیں جس طرح آج کل بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بعض لوگ قادیان میں یونی بیٹھے رہتے ہیں اور لنگر سے کھانا کھاتے ہیں ان کے کھانے بند کرنے چاہئیں مگر جس طرح پہلوں نے اصل حکمت کو نہیں سمجھا ان معترضوں نے بھی نہیں سمجھا) غرض انہوں نے بعض مطالبات کئے جو حضرت عثمان نے قبول کئے اور وہ لوگ یہ منصوبہ کر کے کہ اس وقت تو مدینہ کے لوگ چوکس نکلے اور مدینہ لشکر سے بھرا ہوا ہے۔اس لئے واپس جانا ہی ٹھیک ہے لیکن فلاں دن اور فلاں وقت تم لوگ اچانک مدینہ کی طرف واپس لوٹو اور اپنے مدعا کو پورا کر دو۔جب یہ لوگ واپس چلے گئے تو جس قدر لوگ مدینہ میں جمع ہو گئے تھے سب اپنے اپنے کاموں کے لئے متفرق ہو گئے۔اور ایک دن اچانک ان باغیوں کا شکر مدینہ میں داخل ہو گیا اور تمام گلیوں میں اعلان کر دیا کہ جو شخص خاموش رہے ے گا اسے امن دیا جائے گا۔چنانچہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور اس اچانک حملہ کا مقابلہ نہ کر سکے کیونکہ اگر کوئی شخص کوشش کرتا بھی تو اکیلا کیا کر سکتا تھا اور مسلمانوں کو آپس میں ملنے کی اجازت نہ دیتے تھے سوائے اوقات نماز کے کہ اس وقت بھی عین نماز کے وقت جمع ہونے دیتے اور پھر پراگندہ کر دیتے اس شرارت کو دیکھ کر بعض صحابہ ان لوگوں کے پاس گئے اور کہا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے انہوں نے کہا کہ ہم تو یہاں سے چلے گئے تھے۔لیکن راستہ میں ایک غلام حضرت عثمان کا ملا۔اس کی طرف سے ہمیں شک ہوا ہم نے اس کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک خط نکلا جو گورنر مصر کے نام تھا اور جس میں ہم سب کے قتل کا فتویٰ تھا۔اس لئے ہم واپس آگئے ہیں کہ یہ دھوکا ہم سے کیوں کیا گیا ہے۔ان صحابہ نے ان سے کہا کہ تم یہ تو ہمیں بتاؤ کہ خط تو مصریوں کو ملا تھا اور تم تینوں جماعتوں (یعنی کوفیوں ، بصریوں اور مصریوں) کے