انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 187

انوار العلوم جلد - ۳ IAZ انوار خلافت خلافت کے لئے لوگوں کو بلائے اور اس وقت لوگوں میں ایک امام موجود ہو تو اس پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہو گی اور تم ایسے شخص کو قتل کر دو۔اور حضرت عمرہ کا بھی یہی فتویٰ ہے اس پر حضرت عثمان نے فرمایا کہ انہیں ہم معاف کریں گے اور اس طرح ان کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کریں گے۔پھر فرمایا کہ یہ لوگ بعض باتیں بیان کرتے ہیں وہ ایسی باتیں ہیں کہ تم بھی جانتے ہو لیکن فرق یہ ہے کہ یہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کو میرے خلاف بھڑکانا چاہتے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں نماز قصر نہیں کی حالانکہ پہلے ایسا نہ ہوتا تھا۔سنو میں نے نماز ایسے شہر میں پوری پڑھی ہے جس میں کہ میری بیوی تھی۔کیا اسی طرح نہیں ہوا۔سب صحابہ نے کہا کہ ہاں یہی بات ہے۔پھر فرمایا یہ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اس نے رکھ بنائی ہے حالانکہ اس سے پہلے رکھ نہ بنائی جاتی تھی مگر یہ بات بھی غلط ہے حضرت عمر کے وقت سے رکھ کا انتظام ہے۔ہاں جب صدقات کے اونٹ زیادہ ہو گئے تو میں نے رکھ کو اور بڑھا دیا۔اور یہ دستور بھی حضرت عمر کے وقت سے چلا آیا ہے۔باقی میرے اپنے پاس تو صرف دو اونٹ ہیں اور بھیڑ اور بکری بالکل نہیں۔حالانکہ جب میں خلیفہ ہوا تھا تو میں تمام عرب میں سب سے زیادہ اونٹوں اور بکریوں والا تھا۔لیکن آج میرے پاس نہ بکری ہے نہ اونٹ سوائے ان دو اونٹوں کے کہ یہ بھی صرف حج کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔کیا یہ بات درست نہیں سب صحابہ نے عرض کیا کہ بالکل درست ہے۔پھر فرمایا کہ یہ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ قرآن کئی صورتوں میں تھا میں نے اسے ایک صورت پر لکھوا دیا ہے۔سنو ا قرآن ایک ہے اور ایک خدا کی طرف سے آیا ہے اور اس بات میں میں سب صحابہ کی رائے کا تابع ہوں۔میں نے کوئی بات نہیں کی کیا یہ بات درست نہیں۔سب صحابہ نے عرض کیا کہ بالکل درست ہے اور یہ لوگ واجب القتل ہیں ان کو قتل کیا جائے۔غرض اسی طرح حضرت عثمان نے ان کے سب اعتراضوں کا جواب دیا اور صحابہ نے ان کی تصدیق کی۔اس کے بعد بہت بحث ہوئی۔صحابہ اصرار کرتے تھے کہ ان شریروں کو قتل کیا جائے۔لیکن حضرت عثمان نے اس مشورہ کو قبول نہ کیا اور ان کو معاف کر دیا اور وہ لوگ واپس چلے گئے۔مدینہ سے واپسی پر ان مفسدوں نے سوچا کہ اب دیر کرنی مناسب نہیں۔بات بہت بڑھ چکی ہے اور لوگ جوں جوں اصل واقعات سے آگاہ ہوں گے ہماری جماعت کمزور ہوتی جائے گی۔چنانچہ انہوں نے فورا خطوط لکھنے شروع کر دیئے کہ اب کے حج کے موسم میں ہمارے سب ہم