انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xx of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page xx

انوار العلوم جلد ۳ ۱۳ نہ اب بگاڑ سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی مرضی پوری ہوئی اور ہوگی اور اس کے فضل سے دنیا کے چاروں کناروں پر مجھے اور میرے اتباع کو غلبہ حاصل ہو گا۔اور وہ لوگ جو دشمنی کی آگ میں جل رہے ہیں یا منافقانہ طور پر میرے ساتھ ہو کر پھر ان دشمنوں کے ساتھ شامل ہیں۔آہستہ آہستہ ناکامی اور نامرادی کا منہ دیکھیں گے۔ذلت ان کے استقبال کے لئے ہاتھ بڑھائے کھڑی ہے۔اور رسوائی ان کو بغلگیر کرنے کے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے، ابھی کچھ ہی دن ہوئے محمد مصطفیٰ تمثیلی طور پر تشریف فرما ہوئے۔اور آپ نے مجھے فرمایا۔ہم تیری مشکلات کو دیکھتے ہیں اور ان کو دور کر سکتے ہیں۔لیکن ایک دو (یا دو تین کہا) سال تک صبر کی آزمائش کرتے ہیں۔محمد ﷺ کی روح میری مدد کے لئے جوش مار رہی ہے کیونکہ میرے دشمنوں نے مجھے جو اس وقت اس کا سب سے بڑا عاشق اور سب سے زیادہ محبت رکھنے والا ہوں اور سب سے زیادہ اس کی عظمت کے قائم کرنے کا خواہشمند ہوں۔اس لئے محمد رسول اللہ ا کی ہتک کرنے والا قرار دیا کہ میں نے کیوں اس کی حقیقی عظمت کو قائم کیا اور اس کے درجہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا جو اس کی عظمت کا اظہار کرنے والا ہے۔پس وہی پاک وجود بے تاب ہے کہ میری نصرت کے لئے آئے۔۔۔۔۔۔۔پس میرے یہ دن عید ہیں اور راتیں لیلۃ القدر ہیں کہ محمد ال کو بھی میری فکر ہے۔اور میں اپنے دشمنوں کے حملوں سے گھبراتا نہیں۔کیونکہ جس قدر سخت وہ حملہ کریں گے اتنی ہی جلدی مجھے اس محبوب رب العالمین کی روح مبارک سے فیضان خاص حاصل کرنے کا اور دعائے خاص سے حصہ لینے کا موقع ملے گا۔پس میرے دشمنو! تم حملہ کرو اور جس قدر چاہو کرو۔مجھے جس کی پرواہ تھی رہ مجھ سے خوش ہے۔میں تمہارا بھی شکر گزار ہوں کہ تمہارے بے رحمانہ حملے نہ ہوتے تو ایک غلام کو یہ فخر ہرگز حاصل نہ ہو تا کہ مالک اس کے گھر تشریف لاتا اور ایک خادم کو یہ رتبہ کس طرح نصیب ہو تا کہ آقا اس کی آنکھوں کو اپنے تعارف کتب