انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 146

ر خلافت کالج کے ایک طالب علم کو میں نے بعض دوسرے غیر احمدی طلباء سے یہ کہتے سنا کہ ہمارے ابا جان بڑے ہی نیک انسان ہیں کئی سال ہوئے کہ وہ احمدی ہوئے ہیں لیکن ہمیں کبھی ایک دن بھی انہوں نے نہیں کہا کہ تم بھی احمدی ہو جاؤ۔اس لڑکے کو اپنے باپ میں یہ نیکی نظر آئی کہ مجھے احمدی بننے کے لئے کبھی نہیں کہا گیا۔لیکن کس قدر افسوس ہے اس باپ پر جس نے اس طرح کیا۔کیا ایک باپ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچے کو کنویں میں گرنے دے گا۔نہیں بلکہ ممکن ہے کہ بچہ کو گرنے سے بچاتے ہوئے خود بھی گر پڑے۔مگر بچہ جہنم میں جاتا ہے اور باپ سامنے کھڑا دیکھ رہا ہے۔پکڑتا نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے۔پس تم اپنے گھروں میں تعلیم دو تاکہ تمہاری اولاد بھی سیکھے۔میرا دل چاہتا ہے کہ ہماری نسلیں ہم سے بھی زیادہ احمدیت کا جوش لے کر اٹھیں۔تا خدا تعالی کا یہ دین اطراف عالم میں پھیل جائے۔اس لئے میں یہی نہیں کہتا کہ تم قرآن پڑھو بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی پڑھاؤ تا کہ جس طرح تم اس دنیا میں اکٹھے ہو اگلے جہان میں بھی اکٹھے ہی رہو۔یہ کوئی معمولی بات نہیں میں اس کو سختی سے محسوس کر رہا ہوں۔اس لئے سخت تاکید کرتا ہوں کہ عورتوں کے پڑھانے کی طرف جلدی توجہ کرو۔ہماری جماعت میں عورتیں کم داخل ہیں اور بچے بھی کم احمدی ہیں جس کی یہی وجہ ہے کہ وہ تعلیم دین سے ناواقف ہیں۔تمہیں چاہئے کہ دونوں طرفوں کو مضبوط کرو۔یعنی بیوی بچوں کو پڑھاؤ اور خود بھی پڑھو۔اگر ایسا نہ ہوا تو یاد رکھو کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ احمدیت جس کے لئے تم جان اور مال تک دینے کے لئے تیار ہو اسی کو تمہاری اولاد گالیاں دے گی۔غور کرد که اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو ہمیں غیروں کو احمدی بنانے اور اس قدر کوششیں کرنے کا کیا اجر ملا جبکہ ہماری اپنی اولاد ہی اس نعمت سے محروم ہو گئی۔میرے خیال میں ایک جو سینکڑوں روپیہ اس لئے دیتا ہے کہ ولایت میں مبلغوں کو بھیجو جو لوگوں کو احمدی بنائیں لیکن وہ خود اپنے بیوی بچوں کو تبلیغ نہیں کرتا جن پر نہ روپیہ خرچ ہوتا ہے نہ کسی مبلغ کی ضرورت پیش آتی ہے وہ بہت افسوس کے قابل ہے۔کیونکہ اس کا کیا خرچ ہوتا یا اسے کیا تکلیف پیش آتی اگر وہ گھر میں بیٹھے بیٹھے کچھ سنا دیا کرتا۔صحابہ کرام اسی طرح کیا کرتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان کی عورتیں بھی اشاعت اسلام میں بہت مدد دیتی تھیں۔ایسا غرض میں نے یہ تیسری بات بتائی ہے کہ ہماری جماعت کے مرد اور عورتوں کو علم دین کی بڑی ضرورت ہے۔پس تم خود بھی علم سیکھو اور اپنی عورتوں کو بھی سکھاؤ۔تاکہ خدا تعالی کے