انوارالعلوم (جلد 3) — Page 108
انوار العلوم ۱۰۸ انوار خلافت کہلا سکتا۔کیونکہ یہ اگر جھوٹ ہے تو اس شخص پر جو سچا ہے لیکن یہ اسے جھوٹا کہتا ہے اور خدا پر یہ افتراء نہیں ہے لیکن آیت مذکورہ میں افتری عَلَی اللہ کا ذکر ہے جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اس آیت میں اسی رسول کا ذکر ہے جس کی آمد کی پہلے اطلاع دی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اگر یہ شخص جھوٹا دعویٰ رسالت کرتا ہے اور خدا پر افتراء کرتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ اسلام کے ہوتے ہوئے یہ ایسی شرارت کرتا ہے خدا تعالٰی اسے ہلاک نہیں کرتا۔غرض اس آیت میں صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ یہ احمد رسول رسول کریم ﷺ کے بعد آئے گا اور اس وقت کے مسلمان اسے کہیں گے کہ اسلام کی طرف آ۔اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی زبانی ان سے کہے گا کہ اگر اسلام تمہارے پاس ہے اور تم اسے اسلام کی طرف بلاتے ہو اور یہ پھر بھی خدا پر افتراء سے باز نہیں آتا تو کیوں ہلاک نہیں ہوتا۔اور جبکہ یہ ہلاک نہیں ہو تا تو معلوم ہو تا ہے کہ یہ اسلام پر ہے نہ کہ تم۔آخر میں میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ اعتراض کہ قرآن کریم میں مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا - کئی جگہ پر آیا ہے جہاں کوئی پیشگوئی نہیں درست نہیں۔کیونکہ وہاں کسی جگہ بھی وَهُوَيدُ عَلَى إِلَى الْإِسْلَام کی شرط مذکور نہیں اور صرف اسی جگہ یہ شرط بیان ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چونکہ اس جگہ عام قاعدہ نہیں بیان کیا گیا تھا بلکہ ایک پیشگوئی تھی اس لئے یہ لفظ بڑھا کر اس رسول کی ایک حد تک تعیین بھی کردی کہ وہ اسلام کے ظہور کے بعد آئے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ - لوگ چاہیں چوتھی دلیل ہے کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا۔اگر چہ کافر لوگ اسے ناپسند ہی کرتے ہوں۔یہ آیت بھی حضرت مسیح موعود کے احمد ہونے پر ایک بہت بڑی دلیل ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت اس پیشگوئی کے اول مصداق نہیں ہیں کیونکہ اس آیت میں بتایا ہے کہ اس رسول کے وقت لوگ اس کے سلسلہ کو مونہوں سے مٹانا چاہیں گے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے حالات ہمیں بتا رہے ہیں کہ آپ کے سلسلہ کو مونہہ سے نہیں بلکہ تلوار سے مٹانے کی کوشش کی گئی اور ایسے ایسے مظالم کئے گئے کہ الامان۔اور دلائل سے اسلام کا مقابلہ کرنے کی بہت ہی کم کوشش کی گئی تھی۔پس اس آیت میں ضرور کسی اور زمانہ کی طرف اشارہ ہے جس میں امن و امان ہو گا اور تلوار کی بجائے زیادہ تر زبانوں سے کام لیا جائے گا اور لوگ مونہوں کی