انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 57

انوار العلوم جلد ۳۰ پیغام صحیح موعود کراؤں۔خدا تعالیٰ سے تعلق کرانے اور دنیا میں صلح اور آشتی پھیلانے کے لئے نبی ایک جماعت پیدا کرتے ہیں اور یہ ایسی جماعت ہوا کرتی ہے جو کسی بات کو اندھا دھند نہیں مانتی بلکہ ہر ایک بات کو دلائل سے مانتی ہے۔خدا قیامت، فرشتے ، جزاء و سزا بهشت و دوزخ وغیرہ ہر ایک چیز کو دلائل سے قبول کرتی ہے۔لیکن اس جماعت کے بعد جب لوگوں میں کم حوصلگی پیدا ہو جاتی ہے تو وہ نبیوں کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتے اور جو اعتقاد وہ رکھتے ہیں۔ان کے ثبوت کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی بلکہ رسم و رواج کا نام ہی دین رکھ لیتے ہیں۔آپ لوگ اگر اس وقت کے مولویوں سے پوچھیں کہ خدا تعالیٰ کے ثبوت میں آپ کے پاس کیا دلائل ہیں تو اکثر کچھ جواب نہ دے سکیں گے اور الٹا یہ کہنے لگ جائیں گے کہ تم خدا کا ثبوت مانگتے ہو کیا دہر یہ ہو گئے ہو۔اگر کسی قرآن شریف کی آیت کے متعلق پوچھا جائے تو کہہ دیں گے کہ کیا تم قرآن پر ایمان نہیں لاتے جو اعتراض کرتے ہو ایسا کہنا تو کفر ہے۔یہی حال اہل ہنود کا ہے۔لیکن نبی کی بنائی ہوئی جماعت ہر بات کے لئے دلائل رکھتی ہے۔کیونکہ نبی ہر ایک بات دلائل سے منواتا ہے چنانچہ جن لوگوں نے ہمارے سلسلہ کی کتابیں پڑھی ہیں انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگی۔میں یقین سے کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے ۸۰ - ۹۰ فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ ایسے لوگ ہوں گے جو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو اس لئے مانتے ہیں کہ ہمارے پاس اس کی ہستی کے متعلق یہ ثبوت ہیں۔اسلام کو اس لئے قبول کیا ہے کہ اس کی صداقت کے فلاں فلاں دلائل ہیں۔لیکن اگر دوسرے لوگوں سے پوچھا جائے تو ان میں سے بہت ہی کم ایسے ہوں گے جو کوئی ثبوت دے سکیں۔ابھی کل ہی کا ذکر ہے کہ ایک نوجوان جو میرے نہایت عزیز ہیں اور گریجوایٹ ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ آنحضرت کی رسالت کا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے۔تو انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا ہوا نہیں۔اسی طرح اگر کسی ہندو سے پوچھیں کہ آپ کے مذہب کا کیا ثبوت ہے۔تو اس کا یہی جواب ہو گا کہ چونکہ میں ہندوؤں کے گھر پیدا ہوا ہوں اس لئے ہندو ہوں۔یہی حال اور مذاہب کے لوگوں کا ہے۔تو نبی کا یہ کام ہوتا ہے کہ رسی اور رواجی اعتقادوں سے نکال کر یقینی باتوں کی طرف لے آتا ہے۔پھر نبی کا دوسرا کام یہ ہوتا ہے۔يُعَلِّمُهُمُ الْكِتب لکھنے پڑھنے کی تعلیم سکھاتا ہے۔اس میں تعلیم بھی آجاتی ہے اور شریعت بھی۔والحِكْمَةَ اور ہر ایک شریعت کے حکم کی حقیقت اور وجہ بھی جتاتا ہے۔اس وقت اکثر لوگ نہیں جانتے کہ نماز کیوں پڑھی جاتی ہے پکسیا کیوں کی جاتی ہے